Advertisement

”عوام سے درخواست ہے کہ وہ یہ چیز استعمال کرنا بند کردیں کیونکہ ۔۔۔“ چیف جسٹس نے عوام کیلئے پیغام جاری کر دیا

Advertisements

سپریم کورٹ میں منرل واٹر بیچنے سے متعلق کی کیس کی سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منرل واٹر کمپنیوں نے لاہور اور شیخوپورہ کو سکھا دیا ہے،عوام سے درخواست ہے کہ بوتلوں کا پانی پینا بند کر دیں ،جنہوں نے ہماری زمینیں بنجر کیں اور پیسے بھی نہیں دیتے انکے پانی کا استعمال بند کریں۔

تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہناتھا کہ کمپنیوں کی اکثریت غیر معیاری پانی بیچ رہی ہے اور اربوں گیلن پانی لیا گیا لیکن لاکھوں روپے بھی نہیں دیے گئے،پانی بیچنے والی کوئی کمپنی پیسے نہیں دے رہی۔اعتزاز احسن نے عدالت عظمیٰ میں پانی کی صفائی سے متعلق رپورٹ پڑھ کر سنائی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” آپ انڈس ساگا تو نہیں پڑھ رہے ۔“ منرل واٹر کمپنی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ زیرزمین پانی نکالنے،صاف کرنے ،مارکیٹ کرنے پر اخراجات ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ایسا کرتے ہیں آپ کی ٹربائنیں بند کرا دیتے ہیں،کمپنی سے کہتے ہیں نلکے کا پانی دے۔

چیف جسٹس اعتزاز احسن آپ نے تو صرف بتایا تھا کہ کتنے پیسے ادا کررہے ہیں، ان کمپنیوں نے زیر زمین پانی سکھا دیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اربوں روپے کمار ہے ہیں ، کمیونٹی کو واپس کیوں نہیں کرتے ۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہناتھا کہ ایک روپے کا پانی لے کر باون روپے میں بیچتے ہیں ،لاہور میں زیر زمین پانی چار سو فٹ تک پہنچ گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بند کردیں اس انڈسٹری کو جو ملک کو بنجر بنا رہی ہے،لوگوں میں نخرے آ گئے ہیں آدھی بوتل پانی کی چھوڑ دیتے ہیں ، میں عوام سے کہتا ہوں نلکوں کا پانی پیئیں، دیہات میں آج بھی سادہ پانی پیتے ہیں یہ نخرے شہریوں کے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کمپنیاں کام کرنا چاہتی ہیں تو ایک روپیہ فی لیٹر حکومت کو دیں جس پر اعتزاز احسن کے وکیل نے کہاکہ ہم پچاس پیسے فی لیٹر دے سکتے ہیں ۔ پانی فروخت کرنے والی کمپنی کے وکیل کا کہناتھا کہ عدالت جو بھی قیمت مقرر کرے ہم دینے کو تیار ہیں ۔چیف جسٹس نے یمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منرل واٹر کمپنیوں نے لاہور اور شیخوپورہ کو س±کھا دیا ہے،عوام سے درخواست ہے کہ بوتلوں کا پانی پینا بند کر دیں ،جنہوں نے ہماری زمینیں بنجر کیں اور پیسے بھی نہیں دیتے انکے پانی کا استعمال بند کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سروس اسٹیشنز پر میٹھے پانی سے گاڑیاں دھوئی جا رہی ہیں اس پر جواب دیتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک کار پر چار سو لیٹر پانی خرچ ہوتاہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیمنٹ انڈسٹری کے لیے 5ہزار فی کیوسک قیمت نافذ ہو گئی ۔

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings