Advertisement

حکومت فحش ویب سائٹس بلاک کرے،10 جنوری کو ’’زینب ڈے‘‘ قرار دیا جائے:ڈاکٹر طاہر القادری کا مطالبہ

Advertisements

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 جنوری کو ’’ زینب ڈے‘‘ ڈیکلیر کریں،بچوں اور بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں وفاقی محتسب کی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور اس کی روشنی میں قانون سازی کی جائے،حکومت قانون شہادت میں ترمیم کرے اورڈی این اے ٹیسٹ کو جامع شہادت بنائے اور بچوں اور بچیوں سے درندگی کے جرم کو دہشتگردی قرار دے اور اس کی ایف آئی آر دہشت گردی کی دفعات کے  تحت درج ہونی چاہئے.

قصور میں زینب بی بی کی پہلی برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے زینب کے واقعہ کا سو موٹو ایکشن لیا تو حاجی امین انصاری کو انصاف مل سکا،حالانکہ یہ ذمہ داری اس وقت کی حکومت کی تھی، وہ قومیں کبھی آگے نہیں بڑھ سکتیں جو اپنی نسلوں کی تعلیم و تربیت اور حفاظت نہیں کرتیں۔انھوں نے کہا کہ فحش ویب سائٹس کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے، نفرت انگیز مواد کی تلفی اور ذمہ داروں کو سزا دینے کا کام بھی نیکٹا کے ذمہ لگایا جائے اور فحش ویب سائٹس بلاک کرنے کے لیے سافٹ وئیر تیار کئے جائیں فحش سائٹس سے مجر مانہ سرگرمیوں کا دروازہ کھلتا ہے ان سائٹس کو بذریعہ ٹیکنالوجی بلاک کر نا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ بچوں بچیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ایک ذمہ داری والدین اور اہل محلہ کی بھی ہے، انھیں چاہیے کہ وہ اجنبیوں پر نظر رکھیں،معصوم زینب کو انصاف دلوانے کی جدوجہد میں قصور پولیس کی گولیوں کا نشانہ بننے والے دو نوجوان کی بخشش اور درجات کی بلندی کے لیے بھی دعا گو ہوں،

شہید زینب جنتوں میں ہے اس کے انصاف کی جدوجہد کرنے والے قیامت کے دن اس کی بخشش کی سفارش کے مستحق ہونگے۔ انھوں نے مزید کہا کہ زینب کے معاملہ میں چیف جسٹس سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تو انصاف ممکن ہو سکا ،سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بھی چیف جسٹس نے نوٹس لیا تو نئی جے آئی ٹی بن سکی، یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ زینب کے قاتل کو سزا ملنے کے باوجود بچوں بچیوں کے خلاف جرائم کم نہیں ہو سکے ،بی بی سی کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال میں بچوں کے خلاف درندگی کے 17 ہزار واقعات ہوئے مگر سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں 4 ہزار واقعات ہوئے، اس جرم کو بوجہ چھپایا جاتا ہے۔

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings