Advertisement

شہباز شریف بیرون ملک چلے جائیں گے مگر پاکستان میں مریم نواز ، نواز شریف اورزرداری کیساتھ کیاہونیوالاہے ؟

Advertisements

کہتے ہیں ہر انسان اور ہر قوم کی زندگی میں ایک نہ ایک موڑ ایسا ضرور آتا ہے جس سے اگر صحیح طور پر فائدہ اٹھا لیا جائے تو قوم کی قسمت بدل جاتی ہے۔ مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے اور اگر صحیح طور پر فائدہ نہ اٹھایا جائے تونامور کالم نگار سکندر خان بلوچ روزنامہ نوائے وقت میں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مایوسیاں اور نا کامیاں انسان یا قوم کا مقدر بن جاتی ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک موقع1947میں آیا تھا۔ اسوقت مسلمانوں کی قیادت قائد اعظم جیسے عظیم انسان کے ہاتھ میں تھی۔ قائد نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جس کے نتیجے میں آج پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے موجود ہے اور انشاءاللہ موجود رہے گا۔

پھر ایک موقع 1970/1971میں آیا اسوقت قیادت جنرل آغا محمد یحیٰ اور جناب ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں میں تھی۔ مگر یہ قیادت کچھ ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے پاکستان کو لے ڈوبی اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔ تیسرا موقع اب ہے۔اگر پاکستان سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لے لیا گیا تو پاکستان انشا ءاللہ ترقی کے راستے پر چل نکلے گا ورنہ غربت اور بے کسی ہمارا مقدر بن جائیگی۔پاکستان اس لحاظ سے بد قسمت ملک ہے کہ قائد اعظم کی وفات کے بعد سے یہ مختلف سازشوں اور کرپشن کا شکار ہو گیا۔ ایسے ایسے لوگ اقتدار میں آئے جو ملک کو ہی لوٹ کر کھا گئے اور پاکستان کو کنگال کر دیا۔ پاکستان کی معاشی حالت اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ اگر اسکو اب نہ سنبھالا جائےتو اسکی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ پاکستان کو بچانے کے لئے عمران خان صاحب سامنے آئے اور حالات کی لہر نے انہیں اقتدار کے سنگھاسن پر لا بٹھایا ۔پاکستان کو بچانے کا واحد نسخہ کرپشن کا خاتمہ ہے اور پاکستان سے لوٹی گئی دولت واپس لانی ہے۔اب تک کے حالات ظاہر کرتے ہیں کہ عمران خان اپنے وعدے پر قائم ہیں اور اپنی کو ششوں میں مخلص بھی ہیں مگر عمران خان کی کوششوں نے تمام مخالفین کو متحد کر دیا ہے جو اب عمران خان کو ہمیشہ کے لئے سبق سکھانا چاہتے ہیںتا کہ آئندہ کسی کو بھی ان کی طرف دیکھنے کی جرا¿ت ہی نہ ہو۔ پاکستان کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ایک بہت ہی مخلص ،محب وطن اور قوم کا ہمدرد شخص ہماری عدلیہ کا سربراہ ہے جو اسوقت ہمار ی قوم کا سب سے متحرک اور معتبر شخص ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے عمرِ خضر عطا کرے ۔ وہ ہیں ہمارے معزز چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار صاحب جو وزیر اعظم کی طرح کرپشن ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کی جڑیں کاٹنے والے بدنام و بدخواہ لوگوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے ” خداؤں“ کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ویسے تو پاکستان کو لوٹنے والے ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہیں مگر سب سے زیادہ الزامات ہمارے سابق حکمرانوں پر ہیں ۔ان میں جناب میاں صاحبان اور جناب آصف علی زرداری صاحب سب سے پہلے ہیں۔

حالیہ تفتیشوں میں ان عزت مآب لوگوں پر کرپشن ثابت ہو چکی ہے اور بڑے میاں صاحب کو اس سلسلے میں سات سال قید با مشقت اور پانچ ارب جرمانہ کی سزا مل چکی ہے۔ انکی کچھ جائیداد کی ضبطگی کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔ وہ اسوقت جیل میں ہیں اور انکے بھائی چھوٹے میاں صاحب اور انکے قریبی ساتھی محترم خواجہ سعد رفیق صاحب بھی اسی سلسلے میں فی الحال جیل میں ہیں۔ کچھ مجرم ملک سے بھاگے ہوئے ہیں اور انکے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ باقی ایسے لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ امید ہے کہ وہ بھی بہت جلد شکنجے میں کسے جائیں گے۔ جناب آصف علی زرداری کے انکے خلاف جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم سے انکوائری کرائی گئی اور ہو شربا قسم کے حقائق سامنے آئے۔سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان جیسے غریب ملک کے باسی بھی اتنی پر تعیش زندگی گزار سکتے ہیں۔ مثلاً 41لاکھ روپے صرف ایک سالگرہ پر خرچ کرنا، ایک لاکھ روپے کا کیک بنوانا ، 12لاکھ روپے ماہانہ پانی پر خرچ کرنا،صدقے کے بکروں اور کتوں کے کھانے کا خرچہ تک کرپشن کی دولت سے ادا کرنا اور ظاہری طور پر غریبوں کی مدد کے دعوے کرنا، بڑا عجیب لگتا ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے آپ کو غریبوں کی پارٹی کہلواتی ہے۔ ”روٹی ، کپڑا اور مکان“ کی سہولت بہم پہنچانے کا دعویٰ کرتی ہے مگر اتنی عیاشی تو شاید آغا خان اور بل گیٹس جیسے لوگ بھی ” افورڈ“ نہیں کر سکتے۔حیران کن بات یہ ہے کہ کرپشن کے اتنے طلسماتی قسم کے حقائق سامنے آنے کے باوجود یہ لوگ مانتے ہی نہیں کہ انہوں نے کسی قسم کی کرپشن کی ہے۔ بقول جناب بڑے میاں صاحب ” کرپشن میرے پاس سے بھی نہیں گزری ۔ میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی ۔نہ میں نے کبھی اپنی اتھارٹی کا نا جائز استعمال کیا ہے “۔یہی کچھ چھوٹے میاں صاحب بھی فرماتے ہیں۔ زرداری صاحب ان سے بھی دو قدم آگے ہیں۔فرماتے ہیں ” میں نے قوم کا ایک پیسہ تک نہیں کھایا۔پھرسوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ سچے ہیں تو پھر پاکستان کے اربوں ڈالرز گئے کہاں؟ پاکستان کنگال کیسے ہوا؟ پاکستان کو لوٹا کس نے ؟کیونکہ پچھلے دس سالوں میں حکمران تو یہی لوگ تھے۔پیسہ غائب بھی اسی دور میں ہوا۔ یہ ممکن نہیں کہ حکمران یہ لوگ ہوں اور پیسہ کوئی او چرا کرلے جائے۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ عوام کبھی غلط نہیں ہوتے ۔عوام کی ایک کثیر تعداد کے مطابق یہ لوگ پیسہ واپس نہیں کریں گے ۔اسکی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ اسکا اقتدار محض چند ووٹوں کا محتاج ہے اور وہ بھی مانگے ہوئے۔

ان چند ووٹوں کو خریدنا ان لوگوں کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ لہٰذا یہ لوگ حکومت گرانے کا اعلان پہلے ہی کر چکے ہیں۔ دوسری صورت موجودہ حالات ہیں۔ اسوقت جو یہ لوگ شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں یہ زیادہ تر چیف جسٹس صاحب کے فیصلوں کی وجہ سے ہیں کیونکہ وہ ایک ثابت قدم، ایماندار اور محب وطن شخص ہیں۔ انکے دل میں پاکستان کا درد ہے۔ وہ پاکستان کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا انہیں جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ فیصلے اور بات پاکستان کے حق میں کرتے ہیں لیکن انکی سروس چند ہفتوں سے زیادہ نہیں۔ نیا چیف جسٹس ان کیسز کو کس انداز میں دیکھتا ہے اور ان لوگوں کے خلاف کیا فیصلے کرتا ہے۔ وہ وقت بتائے گا۔ ویسے بہت سے معزز لوگوں کا خیال ہے کہ ان میں سے کسی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔ چھوٹے میاں صاحب ہوشیار آدمی ہیں ۔انکے خلاف کینسر کی بیماری ثابت ہو گئی ہے۔ وہ اس بہانے کچھ عرصے بعد باہر علاج کی غرض سے چلے جائیں گے ۔ جناب بڑے میاں صاحب دو ماہ جیل میں گزارنے کے بعد سابق پراپرٹی کیس میں باہر آچکے ہیں حالانکہ دس سال کی سزا تھی۔ موجودہ سزا کے خلاف بہت سے آئینی اور قانونی ماہرین نے کہہ دیا ہے کہ ”فیصلہ کمزور ہے سزا جلد معطل ہو جائے گی“۔یہ بھی دو ماہ سے زیادہ چلتی ہوئی نظر نہیں آتی۔جہاں تک زرداری صاحب کا تعلق ہے اول تو وہ پکڑے ہی نہیں جائیں گے ۔اگر پکڑے بھی گئے تو وہ بہت جلد ” کلین چٹ“ حاصل کر کے باہر آجائیں گے۔ان کیسز کو ہوا میں اڑانے کے لئے ان کے پاس بہت سے ” کارڈز “ ہیں۔

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings