Advertisement

بے خوابی سے بچنے اور پرسکون نیند لانے والی غذائیں

Advertisements

ہمارے معاشرے میں بے خوابی کا مرض (Insomnia ) بڑھتا جارہا ہے کسی کلینک پر جا کر بیٹھ جائیں تو بیشتر مریض آپ کو دیگر عوارض کے ساتھ بے خوابی کی شکایت کرتے ہوئے بھی نظر آئیں گے۔ ماہرین طب کے مطابق بے خوابی کی کوئی

مخصوص تعریف یا کوئی مخصوص کلیہ نہیں کہ اتنے گھنٹے سے کم نیند کو بے خوابی تصور کیا جائے۔ بعض افراد کو تین تا چار گھنٹے کی نیند ہی ہشاش بشاش کردیتی ہے اور بعض سات آٹھ گھنٹے سونے کے بعد بھی نیند پوری نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو سونے میں مشکل پیش نہیں آتی، ان کی آنکھ بستر پر جانے کے کچھ ہی دیر بعد لگ جاتی ہے مگر تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد وہ نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں۔اس طرح ہر شخص کے لیے بے خوابی کا مطلب مختلف ہوسکتا ہے۔ بہرحال مجموعی طور پر بے خوابی سے مراد پُرسکون نیند کی کمی ہے جو آپ کو ہشاش بشاش اور تازہ دم نہیں کرتی۔کچھ اہتمام اور پرسکون نیند کے لیے غزاؤں کا انتخاب آپ کے ذہنِ رسا اور ذوق کی بات ہے۔تو آئیے کچھ ایسے نکات بیان کرتے ہیں جن پر عمل کرکے آپ بے خوابی سے نجات پاسکتے ہیں اور پُرسکون اور تازہ دم کردینے والی نیند لے سکتے ہیںخواب گاہ کو پُرسکون بنائیےہرممکن کوشش کرکے اپنی خواب گاہ کو پُرسکون بنائیے، اس میں شور کرنے والی کوئی شے نہ ہو، چھت اور دیواروں کا رنگ آنکھوں کو چُبھنے والا نہ ہو۔ اسی طرح بیڈ، اس کی چادر، پردے اور فرنیچر کا رنگ بھی جاذب نظر اور سُکون بخش ہو۔ اس سے پہلے آپ کو کمرے کی لمبائی اور چوڑائی کے حساب سے موزوں بیڈ اور گدے کا انتخاب کرنا چاہیے۔ پرانے گدے یا میٹریس سے گریز کریں کیوں کہ یہ عضلاتی مسائل پیدا کرسکتا ہے اور پُرسکون نیند کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح غلط گدے کا انتخاب بھی آپ کو میٹھی نیند سے محروم کرسکتا ہے۔سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کریںسونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کرنا ایک بہترین عمل ہے ایسا کرنے سے بے خوابی کی شکایت دور ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ مقررہ وقت پر سونے اور جاگنے سے انسانی جسم ان اوقات کے مطابق سونے اور جاگنے کا عادی ہوجاتا ہے۔ پھر جب سونے کا وقت ہوتا ہے

تو خود بہ خود آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں اور مقررہ وقت پر انسان بیدار ہوجاتا ہے۔ کچھ عرصے تک یہ مشق کرنے سے جسم مقررہ اوقات کے مطابق عمل کرنے یعنی سونے اور جاگنے کا عادی ہوجاتا ہے اور بے خوابی سے نجات مل سکتی ہے۔قیلولہ کریں مگر کم وقت کے لیےبعض افراد سہ پہر کے وقت نیند لیتے ہیں۔ وہ لوگ جو ملازمت نہیں کرتے یا اپنے کاروبار کے دوران بھی انھیں سہ پہر میں فارغ مل جاتا ہے ان میں عام طور پر یہ عادت دیکھنے میں آتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سہ پہر کا سونا رات کی نیند کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ چاہے آپ کتنے ہی تھکن سے چُور کیوں نہ ہوں، نیند کی دیوی روٹھی رہے گی۔ اگر سہ پہر میں نیند لینی ہے تو پھر اس کا دورانیہ اوسطاً 20 منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ویک اینڈ پر معمول سے زیادہ سونا بھی بے خوابی کا سبب بن سکتا ہے۔کیفین سے اجتنابکیفین ایک کیمیائی مرکب ہے جو چائے، کافی، چاکلیٹ اور کولا مشروبات میں موجود ہوتا ہے۔ یہ نیند کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سہ پہر اور شام کے اوقات میں ایسی تمام چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں یہ مرکب شامل ہو۔ ہمارے معاشرے میں شام کے وقت اور کھانے کے بعد چائے پینے کا رواج ہے۔ بے خوابی کے مریضوں کے لیے شام کے وقت اور رات کے کھانے کے بعد چائے پینا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ چناں چہ ان اوقات میں چائے اور دوسری اشیاء استعمال نہ کریں جن میں کیفین شامل ہونیند سے قبل ورزش نہ کریںدن کے وقت ورزش کرنے کی عادت ڈالیں مگر بستر پر جانے سے قبل سخت ورزش نہ کریں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سونے سے 4 سے 5 گھنٹے قبل ہلکی پھلکی ورزش میٹھی اور پُرسکون نیند لانے میں معاون ہوتی ہے۔کھانے اور نیند کے درمیان وقفہ ضروری رات کا کھانا ڈٹ کر کھانا پُرسکون نیند سے محروم کرسکتا ہے۔ اسی طرح کھانا کھانے کے فوری بعد بستر کا رخ کرنے سے بھی پُرسکون نیند نہیں آتی۔ کھانا ہضم نہ ہو تو وقفے وقفے سے آنکھ کُھلتی رہتی ہے۔ اس طرح ایک تو نیند متاثر ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ کھانا کھانے کے فوری بعد سونا صحت کے لیے بھی مُضر ہے۔ اس ضمن میں میں ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند اور کھانے کے درمیان کم از کم ڈھائی تا 3 گھنٹے کا وقفہ ضروری ہے۔اعصاب کو پرسکون رکھیںسونے سے پہلے اعصاب کو پُرسکون کرنے کے لیے کسی سرگرمی میں کچھ دیر مشغول ہوجائیں، مثلاً کتب بینی کریں یا موسیقی سے لطف اندوز ہوں یا ایسی کوئی بھی سرگرمی اختیار کرلیں جس سے ذہن تفکرات اور پریشان کُن خیالات سے عارضی طور پر ہی سہی لیکن آزاد ہوجائے۔پرسکون نیند لانے والی غذائیںماہرین کے مطابق کچھ غذائیں ایسی ہیں جنہیں کھا کر آپ پرسکون نیند سو سکتے

اور بے خوابی سے جنجات پاسکتے ہیں۔اخروٹ اخروٹ میں موجود مائنو ایسڈ دماغ میں سیروٹنن اور میلاٹونن نامی مادہ پیدا کرتا ہے جو ہمارے دماغ کو پرسکون بنا کر بہترین نیند لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند لانے والی بعض دواؤں میں مصنوعی طور پر میلاٹونن کی آمیزش کی جاتی ہے۔ لہٰذا ان دواؤں سے بہتر میلاٹونن کا قدرتی ذخیرہ ہے جو اخروٹ کی شکل میں بآسانی دستیاب اور صحت بخش ہے۔بادام بادام میں موجود میگنیشیئم دماغی تناؤ کو کم اور سر درد کا علاج کرتا ہے۔ یہ دراصل دماغ اور اعصاب کو پرسکون کرتا ہے۔ یہی نہیں روزانہ بادام کھانا دماغی کارکردگی اور استعداد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔شکر قندی اگر آپ رات میں بہترین نیند سونا چاہتے ہیں تو شام میں شکر قندی کھائیں۔ یہ نہ صرف ذائقہ دار ہے بلکہ اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس اور وٹامن بی 6 معدے کی تیزابیت کو ختم کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپ سو نہیں پاتے۔گرم دودھ رات سونے سے قبل ایک گلاس نیم گرم دودھ پینے کے بعد آپ بستر پر لیٹتے ہی نیند کی آغوش میں چلے جائیں گے۔ نہ صرف دودھ بلکہ وہ تمام غذائیں جن میں کیلشیئم موجود ہو جیسے دہی یا پنیر وغیرہ نیند لانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔البتہ ان کے استعمال سے قبل وقت اور موسم کو ضرور مدنظر رکھیں۔ صرف نیم گرم دودھ ہر موسم میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔کیلےکیلے میں پوٹاشیئم اور میگنیشیئم وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جو اعصاب اور پٹھوں کو آرام دہ اور ہلکا پھلکا کرتے ہیں جس کے بعد آپ ایک پرسکون نیند سوتے ہیں

Advertisement

Source dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings