Advertisement

وہ ایک دعا جو اپنے لیے کبھی نہیں مانگنی چاہئے اور خاص طور پر رمضان میں اسی کون سی دعا ہے؟

Advertisements

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی بستر علالت پر دراز تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کرم ہے وہ بیمار اس طرح ہو گیا جیسے اس نے ابھی رحم مادر سے جنم لیا ہو۔ اس نے عرض کیا کہ مبارک ہے وہ بیماری جس کی وجہ سے آپ میرے در پر تشریف لائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیمار صحابی سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے کوئی ایسی دعا کی تھی جو تمہارے لئے و بال جان بن چکی ہے۔ اس نے عرض کیا کہ میں اپنے گناہوں سے اس قدر خائف تھا

کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کہ کہ یا اللہ مجھے آخرت میں کوئی تکلیف نہ دینا۔ مجھے جو بھی تکلیف آپ کو دینی ہے اسی دنیا میں دے دینا۔ لہذا اس بیماری نے مجھے بہت تکلیف دی ہے اور میں بے بس ہو گیا ہوں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لاتے تو نہ جانے میرا کیا حال ہوتا ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسی دعا کبھی نہ کرنا۔ ایک چیونٹی کی کیا مجال کہ وہ یہ کہے کہ یا اللہ مجھ پر پہاڑ لا د دے۔ اس صحابی نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں توبہ کرتا ہوں۔
وہ ایک دعا جو اپنے لیے کبھی نہیں مانگنی چاہئے اور خاص طور پر رمضان میں اسی کون سی دعا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی بستر علالت پر دراز تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کرم ہے وہ بیمار اس طرح ہو گیا جیسے اس نے ابھی رحم مادر سے جنم لیا ہو۔ اس نے عرض کیا کہ مبارک ہے وہ بیماری جس کی وجہ سے آپ میرے در پر تشریف لائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیمار صحابی سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے کوئی ایسی دعا کی تھی جو تمہارے لئے و بال جان بن چکی ہے۔ اس نے عرض کیا کہ میں اپنے گناہوں سے اس قدر خائف تھا

Advertisement

Source dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings