Advertisement

پریشانی ختم۔۔۔ روپیہ پھر سے تگڑا،اسد عمر نے قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی

Advertisements

وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے منصوبے پر مقررہ وقت میں عملدرآمدکے لئے نظام الاوقات وضع کرنے کی ہدایت کی ہے. انہوں نے یہ ہدایت اسلام آباد میں ایف اے ٹی ایف منصوبے پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی. اجلاس کے دوران NACTA کے ڈائریکٹر جنرل نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے لائحہ عمل پر عملدرآمد کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی نقطہ نظر پیش کیا جائے گا.دریں اثناءوزیرخزانہ اسد عمر نے گیارہویں جنوبی ایشیا اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا جومعاشی خلاتھا وہ پوراکرچکے ہیں کوئی بحران نہیں ہے،2018 اور 2019میں کوئی معاشی بحران نہیں ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ہے، اسے پورا کرنا ناگزیر ہے. وزیرخزانہ نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر کہتا ہوں معاشی بحران ٹل چکاہے، خدارا لوگوں کو کاروبار کرنے دیں، رواں مالی سال کیلئے درکار رقم کا انتظام ہوچکا ہے.

اسد عمر نے کہا روپے کی قدر میں گرواٹ کی رفتار گزشتہ دور کے مقابلے میں کم ہے، روپے کی قدر میں کمی کے بنیادی مسائل اب حل ہونا شروع ہو گئے ہیں، برآمدات بڑھ رہی ہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ نصف ہوگیا ہے، ابھی تو صرف سمت ملی ہے بہت کام کرنا باقی ہے. انہوں نے کہا کہ پالیسی میں تبدیلی نہیں ، اسٹیٹ بینک کو خود مختار رکھیں گے، ایکس چینج ریٹ کا فیصلہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے کیا گیا تھا، اسٹیٹ بینک اس فیصلے کو جاری رکھے گا.

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیرخزانہ نے کہا بھارت کے لوگ بھی امن چاہتے ہیں، امید ہے سارک کا تعاون مستقبل میں مضبوط ہوجائے گا، کرتار پور راہدری کھولنا بہت اچھا اقدام ہے. انہوں نے کہا کہ کشیدگی اور سیاسی تنازعات ختم کرنے کے لیے الگ سوچنا ہوگا ،پاکستان بھارت سے مثبت جواب کی امید رکھتا ہے. انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی قسم کی ہیجانی کیفیت نہیں، ملک میں جلد بھاری سرمایہ کاری آئے گی، پاکستان میں برآمدات بڑھ رہی ہیں اور خسارے کم ہو رہے ہیں.

وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ دو ریاستوں کے درمیان کشیدگی اور سیاسی تنازعات ختم کرنے کے لیے الگ سوچنا ہوگا. انہوں نے مزید کہا کہ معیشت کے تمام اشارے بہتری کی طرف گامزن ہیں، معاشی صورت حال سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانے سے گریز کیا جائے. وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ڈالر کی قیمت کا حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک کرتا ہے، ضرورت پڑی تو اسٹیٹ بینک کاطریقہ کار مضبوط کیا جا ئے گا.

اسد عمرنے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے درمیان رابطے کا میکنزم بنایا جا رہا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ کو کوئی میکنزم پیش کریں،اسٹیٹ بینک کی غیر جانبداری پر یقین رکھتے ہیں. انہوں نے کہا کہ لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لئے انٹرا ریجنل ٹریڈ کی ضرورت ہے، بین العلاقائی تجارت کیلئے سیاسی گنجائش دے سکتے ہیں، پاکستان کے پاس آج ایک رہنما ہے جو رسک لیتا اور بولڈ پوزیشن لیتا ہے. اسد عمر نے امید ظاہر کی کہ ایس ڈی پی آئی کانفرنس میں مسائل کا کوئی حل نکلے گا اور تجاویز دی جائیں گی.

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings