Advertisement

سمندرمیں تیل وگیس کی تلاش کرتے پاکستان کودوسرے علاقے سے بڑاخزانہ مل گیا

Advertisements

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے بتایا ہے کہ سندھ کے علاقے ٹنڈو محمد خان سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے اسٹاک ایکسچینج کو بتایا کہ گیس اور تیل کے ذخائر ضلع ٹنڈو محمد خان کے علاقے میں مانیگرو کے پہلے کنویں سے برآمد ہوئے۔ادارے نے بتایا کہ کنویں کے لیے 2 ہزار 6 سو 76 میٹر کھدائی کی گئی، جس سے 10.44 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس اور 120 بیرل تیل یومیہ نکلنے کی توقع کی جارہی ہے۔دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے ایس پی ای سی انرجی سے شہداد پور فیلڈ میں گیس پراسیسنگ پلانٹ کی تعمیر کا معاہدہ ختم کردیا۔

رات کو چھت پر موجود یہ چیز کیا واقعی ایک چڑیل ہے حقیقت جان کر آ پ کی چیخیں نکل جائیں گی

 سندھ کے شہرحیدر آباد میں سوشل میڈیاپرایک تصویرگردش کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جس میں ایک چھت پر ایک چڑیل نما چیز کو بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بارے میں کافی دیر تک قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ کسی نے کہا کہ یہ کوئی بچی ہے جو چڑیل کا روپ دھارےاپنےگھر کی چھت پر بیٹھی ہے تو کسی نے کہاکہ یہ دراصل چڑیل ہی ہے۔ کئی لوگوں نے اس شے کو چڑیل سمجھنے والوں کا مذاق اڑانا شروع کردیا کہ ف چڑیل کو معلوم تھا کہ اس کی تصویر بنائی جانےوالی ہے اس لیئے وہ تیار ہو کر آکر بیٹھ گئی ہےجیسے وہ کوئی فنکارہ ہے۔

معروف گلوکار فاخر نے بھی اس کی تصویر شئیرکرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ تصویراصلی ہے یا پھر نقلی۔ اس کے جواب میں ان کے ایک غیر ملکی فالوور نے معاملے کی وضاحت کردی ۔اس ے انکشاف کیاہے کہ تصویراصل میں مراکش کی ہے اورچوروں نے چڑیل کی شکل کی گڑیاایک گھرکی دیوارپررکھ دی جس کودیکھنے کےلئے پوراگائوں اس کودیکھنے کے اُمڈآیااورلوگ جب گھروں کوچھوڑکراس چڑیل نماگڑیاکودیکھ رہے تھے تواس دوران اس گڑیانماچڑیل کودیوارپررکھنے والے چوروں ان لوگوں کے گھروں میں چوری کی وارداتیں کرتے رہے اورکئی گھروں کامکمل صفایاکرگئے ۔۔اس گڑیانماچڑیل کی حقیقت جان کرسوشل میڈیاکے متعدد صارفین نے اس واقعے پرافسوس کااظہارکیاہے ۔

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings