Advertisement

شکر الحمداللہ ۔۔۔پا کستا نیوں کیلئے بڑی خبر ، پوری قوم کو خوشخبری سنا دی گئی

Advertisements

 قوم کیلئے بہت بڑی خوشخبری، تیل کے ذخائر دریافت کر لیے گئے، او جی ڈی سی ایل نے سندھ میں تیل کے ذخائر دریافت کرنے میں کامیاب، یومیہ 120 بیرل یومیہ تیل کے ذخائر دریافت ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے صوبہ سندھ کے علاقوں منگریو اور ٹنڈو محمد خان میں تیل وگیس کے نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔او جی ڈی سی ایل کے مطابق منگریو میں ویل نمبر ایک سے کھدائی کے دوران تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق ابتدائی طور پر 10.44 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور 120 بیرل یومیہ تیل کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ اس منصوبے میں او جی ڈی سی ایل 95 فیصد شراکت داری کے ساتھ آپریٹنگ کمپنی ہےجبکہ بقیہ 5 فیصد حصص گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاس ہیں۔دوسری جانب کراچی سے 280 کلومیٹر دورزیرسمندر تیل وگیس کی تلاش کیلئے مطلوبہ ڈرلنگ کا اعصاب شکن مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ ای این آئی کمپنی پر مشتمل جوائنٹ وینچر نے 14ارب لاگت سے 5 ہزار470 میٹر زیرسمندر (لائنرتک)ڈرلنگ مکمل کرتے ہوئے تیل وگیس کے ذخیرہ تک رسائی حاصل کرلی ۔ ڈرلنگ کمپنی نے تیل وگیس کی حقیقی مقدارکا تعین شروع کردیا ہے ۔یہ عمل آئندہ تین روز میں مکمل جبکہ تیل وگیس کی مقدار کی رپورٹ ایک ہفتے میں تیار کرلی جائے گی۔ ابتدائی اندازے کے مطابق کیکڑا ون بلاک میں 9ٹریلین کیوبک فٹ گیس اور خام تیل کی بڑی مقدار موجود ہو سکتی ہے ۔قومی اخبار سے گفتگو میں میں ایگزن موبل کمپنی کے سینئر عہدیدار نے تصدیق کی کہ کیکڑا ون بلاک میں تیل وگیس کی تلاش کے لیے 11جنوری 2019ء کو شروع کی گئی ڈرلنگ لائنر تک مکمل کرلی گئی ہے ۔ای این آئی، ایگزن موبل، اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل اس کنویں میں 25 فیصد کے تناسب سے ملکیت رکھتی ہیں اور اسی تناسب سے چاروں کمپنیوں نے مشترکہ سرمایہ کاری کی ہے ۔ کیکڑا ون بلاک میں تیل وگیس کے تخمینی ذخیرے 9 ٹریلین کیوبک فٹ تک رسائی کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری تھیں۔

ڈرلنگ کمپنی گیس وتیل کے ذخیرے کی حقیقی مقدار کا تعین کرنے کے لیے 200 میٹر ذخیرے میں رسائی شروع کردی ہے ۔ہائی پریشر کے باعث یہ عمل محتاط انداز میں آئندہ تین روز میں مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد ذخیرے سے ملنے والے نمونوں کی ٹیسٹنگ اور تجزیہ کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اگر تکنیکی ٹیم نے تجویز دی تو ذخیرے کے اندر1ہزار میٹر نیچے تک جانے کی کوشش کی جائیگی۔ ڈرلنگ کے عمل کے دوران آپریشن ٹیم کو ہائی پریشر کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ہائی پریشر کسی بھی گیس کے ذخیرے کی کامیابی کا روشن عندیہ تصورکیا جاتا ہے ۔ذخیرے سے ملنے والے نمونوں کی ٹیسٹنگ اور تجزیہ کرنے کے بعد اگر ذخیرے میں گیس یا تیل کی بڑی مقدار کی تصدیق ہوگئی اور جسکی مالیت 10ارب ڈالر سے زائد ہوتو گیس وتیل کو نکالنے کے لیے سمندر میں انفراسٹرکچر بچھایا جائے گا۔ ذخیرہ بڑا ثابت ہونے کی صورت میں پاکستان کا پٹرولیم مصنوعات کا امپورٹ بل6ارب ڈالر سالانہ کم ہونے کی امید ہے ۔ دوسری جانب حیران کن امریہ ہے تیل وگیس کی تلاش کے لیے ڈرلنگ مکمل کرنے والی کمپنی ای این آئی کے درآمدکردہ ڈرلنگ بحری جہاز، ہیلی کاپٹرزاور دیگر سامان کو ایف بی آر کی جانب سے تاحال کلیئرنس نہیں مل سکی۔وفاقی کابینہ کی جانب سے آج ای این آئی سمیت سمندر میں تیل وگیس کی تلاش کے لیے مستقبل میں آنے والی کمپنیوں کو کسٹمزڈیوٹی سے چھوٹ دئیے جانے کا امکان ہے ۔

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings