Advertisement

اگر آپ کے جسم میں یہ خطرناک کیمیکل بڑھ رہا ہے تو فوراً چائے پینا چھوڑ دیں،خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے

Advertisements

ولیسٹرول پر نظر رکھنے سے انسان کو اپنی صحت قائم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔جتنا آپ کو کولیسٹرول کا علم ہوگا اتنا آپ احتیاط کے قابل ہوجائیں گے۔ دل کے امراض میں کولیسٹرول اور دوسری چکنائیاں خون کی وریدوں میں جم جانے کی وجہ سے ان راستوں کو تنگ کر دیتی ہیں۔جس کی وجہ سے خون کے بہاﺅ میں رکاوٹ آجاتی ہے۔ ناکافی خون کے بہاﺅ سے ٹشوز میں زخم بھی ہو سکتے ہیں اور وہ مر بھی سکتے ہیں۔اسی وجہ سے انسان میں فوراً موت کا سانحہ پیش آ جاتا ہے۔ وریدوں میں چکنائیوں کے جم جانے کا عمل تیز بھی ہو سکتا ہے اور سست بھی۔ (ا) خون کا دباﺅ (۲) سگریٹ نوشی (۳) خون میں کولیسٹرول کا زیادہ ہونا (۴) وزن زیادہ ہونا

(۵) زیادہ عرصہ تک ورزش سے دور رہنا۔
یہ وہ عوامل ہیں جن پر انسان کسی حد تک کنٹرول کر سکتا ہے۔ ان تمام عوامل کو دور رکھنے سے دل کے امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض بھی ان عوامل کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں سے پرہیز کر کے دل کے امراض سے دور رہ سکتے ہیں۔جدید تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ دل کے امراض میں خون کا دباﺅ نمایاں کر دار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کولیسٹرول اس کے اثرات بڑھا سکتا ہے۔ عام طور پر دل کے امراض ان لوگوں کو لاحق ہوتے ہیں جن کا کولیسٹرول لیول 240 ملی گرام / ڈیسی لیٹر ہوتا ہے یا اس سے زیادہ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ اس سے کم کولیسٹرول کی موجودگی میں بھی دل کا مرض ہو جاتا ہے۔ لہٰذا لوگوں کو دل کے امراض سے بچنے کیلئے کولیسٹرول کی مقدار پر قابو پانا چاہئے اور یہ اسی صورت میںممکن ہو سکتا ہےکہ کم چکنائی استعمال کی جائے اور ورزش اور خوراک کا خاص طور پر خیال رکھا جائے۔ کیونکہ یہ تصدیق شدہ بات ہے کہ کولیسٹرول کو کم کرنے سے دل کے امراض کا ریٹ کم کیا جا سکتا ہے اور مندرجہ ذیل چیزوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔

Advertisement

Source Pakzindabad.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings