“حالات بہت سنگین، پریشان کن ہیں” بالآخر سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی اعتراف کرلیا

HomeLatest Updates

“حالات بہت سنگین، پریشان کن ہیں” بالآخر سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی اعتراف کرلیا

سابق بھارتی وزیراعظم اور کانگریس پارٹی کے رہنما منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت کی موجودہ صورتحال بہت ہی زیادہ سنگین اور پریشان کن ہیں۔ ملکی ادارے، م

میچ جیتنے کی خوشی میں ٹیم کے کھلاڑیوں نے 22 خوبرو ماڈلز کو ہوائی جہاز پر اپنے پاس بلا لیا
میر ی بیماری میری مرضی ،شیخ رشیداحمد نےمیاں برادران کوکھری کھری سنادیں ،بلاول پربھی برس پڑے
“اپنا ایزی لوڈ خود کرواؤ” عورت مارچ سے پہلے مرد عورت مارچ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے

سابق بھارتی وزیراعظم اور کانگریس پارٹی کے رہنما منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت کی موجودہ صورتحال بہت ہی زیادہ سنگین اور پریشان کن ہیں۔ ملکی ادارے، میڈیا اور عدالت حالات کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے بعد بھارتی میڈیا ’دی ہندو‘ میں لکھے گئے اپنے ایک کالم میں سابق بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں بھارت کی موجودہ حالت پر بہت زیادہ مایوس ہوں، حکومت کو متنازع شہریت ترمیمی قانون کو واپس لے لینا چاہیے۔

مضمون میں انہوں نے مزید لکھا کہ بھارت کو سماجی انتشار، معاشی سست روی اور عالمی سطح پر پھیلی وبا جیسے 3 اہم چیلنچز کا سامنا ہے۔ نریندرا مودی کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ قوم کو صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملاً باور کروائیں کہ جن چیلنجز کا سامنا ہے اس سے با خبر ہیں اور قوم کو یقین دہانی کرائیں کہ وہ مسائل سے نمٹنے میں مدد کریں گے تاکہ ہم ان کا آسانی سے مقابلہ کر سکیں۔ یاد رہے کہ منموہن سنگھ کا تعلق انڈیا میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگرس سے ہے۔ منموہن 2004 سے 2014 تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے ہیں۔من موہن سنگھ کا کہنا تھا کہ اگر ان چیلنجز کا فوری طور پر سد باب نہ کیا گیا تو حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔ مجھے تشویش ہے کہ خطرات کا مضبوط مرکب نہ صرف بھارتی روح کو مخدوش کرسکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ہماری معاشی اور جمہوری طاقت کی حیثیت کو بھی نیست و نہ بود کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ انڈیا کی شرح نمو 4.7 فیصد تک گِری ہے۔ شرح نمو کا اس حد تک گرنا گزشتہ کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ مینوفیکچرنگ میں کمی نے مجموعی معیشت کو متاثر کیا ہے۔

حال ہی میں دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور مذہبی منافرت کو فروغ دینے میں سیاست دانوں کا بھی ہاتھ ہے، حیرت ہے امن و امان برقرار رکھنے والے اداروں نے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اپنے فرائض پورے نہیں کیے اور عدالت و میڈیا جیسے ادارے بھی اس میں ناکام رہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ چونکہ قدغن کا کوئی انتظام نہیں ہے اس لیے معاشرتی کشیدگی کی آگ پورے ملک میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہمارے ملک کی روح کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اس آگ کو وہی بجھا سکتے ہیں جنہوں نے اسے لگایا ہے۔منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارت کی لبرل شناخت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ چند برس قبل تک جو بھارت عالمی سطح پر اپنی لبرل جمہوری اقدار کے ذریعے معاشی ترقی کا نمونہ پیش کررہا تھا وہ اب مایوس کن معاشی حالات میں تیزی سے جھگڑوں میں گہری یہ ریاست اب )میجوریٹیرئین( ریاست بننے کی راہ پر ہے۔

من موہن سنگھ کے مطابق معیشت کی ترقی کے لیے سماجی ہم آہنگی بہت ضروری ہے جو اس وقت خطرات سے دو چار ہے اور اگر ملک میں فرقہ واراونہ بے چینی پائی جائے گی تولاکھ جتن کے باوجود معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی اور سرمایہ کاری ممکن نہیں ہے۔

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0