Advertisement

پاکستان کا وہ شہر جہاں سمگل شدہ بھارتی کپڑے کی بھرمار ہوگئی،مقامی انڈسٹری کو کروڑوں روپے کا نقصان

Advertisements

 گوجرانوالہ میں سمگل شدہ بھارتی کپڑے کی بھرمار ہے جس سے مقامی انڈسٹری کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔گوجرانوالہ میں سمگل شدہ کپڑے کی فروخت عروج پر، زیادہ تر انڈین اور کورین کپڑا سمگل ہو کر ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے مارکیٹوں میں پہنچتا ہے۔سمگل شدہ کپڑے کی فروخت سے پاکستانی انڈسٹری بھی متاثر ہو کر رہ گئی ہے جبکہ حکومت کو کسٹم ڈیوٹی کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ سالہا سال سے جاری کپڑے کی سمگلنگ کا نہ رکنا کسٹم حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

وزیر اعظم کو رات 12بجے کے بعد یہ کام کرنےسے روکا جائے ،

وزیراعظم عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت اگر جاتے جاتے اپنی تھوڑی سی عزت بچانا چاہتی ہے تو ان کو چاہئیے کہ تمام وزراء اور وزیراعظم کو رات 12 بجے کے بعد ٹویٹ کرنے کی اجازت نہ دے۔ ٹویٹر پیغام میں انہوں نے اپنی ایک ویڈیو بھی شئیر کی جس میں پاکستان آنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ میں چھ سال قبل جب پاکستان آئی تھی تو میرا وہ تجربہ کچھ ایسا نہیں رہا کہ مجھے پاکستان آنے کی جلدی ہو ۔انہوں نے موجودہ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے بہت ہمدردی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ عثمان بزدار کو چھترول پیریڈ کے لیے رکھا گیا ہے۔ ریحام خان نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ جن کی ذہنی حالت کے بارے میں ہمیں تشویش ہونی چاہئیے وہ لوگ حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ایک ایسے وزیر بھی ہیں جن کی وجہ شہرت یہ ہے کہ وہ ہر حکومت میں رہے ہیں۔

ایسی کوئی جماعت نہیں ہے جو انہوں نے نہ چھوڑی ہو۔ اور ہر حکومت میں وہ اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جو پہلے پی ٹی آئی کے لوگوں کو کُتوں سے مشابہت دیتے تھے اور آج وہ خود ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔ اُن کے بیانات سے ہمیں شرمندگی ہوتی ہے ، میری ایک دو رائے ہیں۔ ہم ان کی عادات اور جن مصروفیات میں یہ مشغول ہیں، ان کو تو ہم کنٹرول نہیں کر سکتے ، لیکن میری عاجزانہ درخواست ہے کہ اگر آپ اپنی حکومت بچانا چاہتے ہیں ، جاتے جاتے تھوڑی عزت ہی بچانا چاہتے ہیں، تو وفاقی و صوبائی وزرا ، ترجمانوں اور یہاں تک کہ وزیراعظم پر بھی کرفیو لگا دیں کہ یہ لوگ رات بارہ بجے کے بعد ٹویٹر استعمال نہیں کریں گے۔ بلکہ بہت بہتر ہو کہ دفتری اوقات میں بھی ٹویٹ کرنے سے قبل کسی ایک شخص کو دکھا دیں جو آپ کی کابینہ کا حصہ نہ ہو اور آپ کی پی ٹی آئی کا حصہ نہ ہو اور اُس کو دکھا دیں کہ یہ ٹویٹ غلط تو نہیں ہے ؟ اس میں کوئی گالم گلوچ تو نہیں ہے ؟ اس سے پاکستان کی بے عزتی تو نہیں ہو جائے گی یا دنیا میں شرمندگی کا سبب تو نہیں بن جائے گی ؟ ریحام خان نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ آفرین ہے آپ کی تعلیم پر ، آپ کی تعلیمی قابلیت پر ، اُن جماعتوں پر جہاں جہاں آپ تعینات رہے اور اُن لوگوں پر کہ جنہوں نے ایک ایسے شخص کو جو 60 ووٹ بھی حاصل نہیں کر سکتا تھا، ایم این اے بھی بنایا، ایم پی اے بھی بنایا، تو جب آپ استعفے کی بات کرتے ہیں تو پھر صرف عثمان بزدار کا نام ہی کیوں آتا ہے؟ ۔

Advertisement

Source daily ausaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More