Advertisement

حج پر آئے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ خانہ کعبہ میں گڑ گڑا کر کشمیر کیلئے دعا کریں وزیر خارجہ نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کی اپیل کر دی

Advertisements

: بھارت نے آج مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن افسوس کہ پاکستانی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر نہ تو زیادہ رد عمل دیا گیا اور نہ ہی تاحال بھارت کے اس اقدام کی مذمت کی گئی۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی ٹی وی چینل پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

بھارت کی اس حرکت نے مسئلہ کشمیر میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے مسئلہ حل ہوا ، ہرگز نہیں ، اس اقدام سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ آج مسئلہ کشمیر پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اس پر ہم قانونی ماہرین کی رائے بھی لیں گے ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر جدوجہد مزید جان پکڑے گی ۔ پاکستان پہلے بھی ان کے ساتھ تھا اور آگے بھی کشمیر کے ساتھ ہی رہے گا۔

وقت ثابت کرے گا کہ بھارت کا یہ فیصلہ غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں ابھی سعودی عرب میں موجود ہوں ، احرام کی حالت میں ہوں۔ میں حج کی سعادت حاصل کرنے آیا ہوں۔ میری نظروں کے سامنے لاکھوں مسلمانوں کا طواف جاری ہے۔ میری ان سے درخواست ہے کہ وہ کشمیریوں کی کامیابی اور ان کی فتح کے لیے دعا کریں۔ ان کی کامیابی کے لیے خانہ کعبہ میں گڑ گڑا کر دعائیں کریں اور ان سے اظہار یکجہتی کریں۔

میری پوری اُمہ کی قیادت سے درخواست ہے کہ وہ مزید خاموش نہ رہیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں مل کر کشمیریوں کا ساتھ دینا ہو گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مسلم اُمہ سے دعاؤں کی اپیل ایک طرف لیکن ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے خاصی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جس وقت کشمیر کو ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہے اُس وقت پاکستان کی قیادت خاموش ہو کر بیٹھی ہے ، وزیر خارجہ خود کچھ کرنے کی بجائے مسلم اُمہ کو دعاؤں کے مشورے دے رہے ہیں اور تو اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی بھی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے خاطر خواہ احتجاج ریکارڈ کروانے میں ناکام ہو گئی ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنے اور بھارت کے اس اقدام کی مذمت کرنے کی بجائے شہریوں کو دو ، دو پودے لگانے کا سبق دے رہے ہیں جو قابل افسوس ہے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More