Advertisement

تینوں افواج الرٹ رہیں۔۔۔مسئلہ کشمیر کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف نے سب سے بڑا فیصلہ کرلیا

Advertisements

معروف صحافی صابر شاکر کا گذشتہ روز کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بہت کشیدہ ہو چکی ہے۔بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں ارادے بھی بظاہر خطرناک ہیں۔پاکستان اور انڈیا ایک بار پھر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔پاکستان کی قومی سلامتی کا ہونے والا اجلاس کافی سنجیدہ تھا۔اور اس اجلاس میں بہت اہم ترین فیصلے کیے گئے ہیں۔

صابر شاکر نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت اس لیے انتشار پھیلانا چاہ رہا ہے کیونکہ جب عمران خان اور آرمی چیف نے امریکی صدر کی دعوت پر امریکا کا دورہ کیا تو پاکستان سفارتی سطح پر یہ بتانے میں کامیاب ہو گیا کہ کشمیر خطرناک حد تک ایک سنجیدہ اور خطرناک مسئلہ ہے۔اس مسئلے کو حل کرنا بہت ضروری ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستتان اور بھارت کے مابین کسی وقت بھی لڑائی ہو سکتی ہےجس کے جواب میں امریکی صدرنے ثالثی کی پیشکش کی۔

اس طرح سے مسئلہ کشمیر ایک عالمی مسئلہ بن گیا۔امریکی صدر کے بیان کے بعد بھارتی کی آرمی اور حکومت بہت زیادہ پریشر میں آ گئی جس کے بعد انہوں نے دباؤ اور خوف کے تحت اس مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کی۔بھارت چاہتا ہے کہ کسی طریقے سے یہ مسئلہ دو طرفہ ہی رہے۔کیونکہ اگر کشیدگی بڑھ گئی تو پھر دنیا کہے گی کہ اس کشیدگی کو ختم کرو۔اس طرح بھارت کشیدگی ختم کر کے دنیا پر احسان کرے گا۔

صابر شاکر نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کے ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف نے اہم فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاک بحریہ بھی تیار رہے گی،پاک فضائیہ بھی الرٹ رہے گی اور زمینی فوج بھی تیار رہے گی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کو ہیومن انٹیلجنس کا ٹاسک دیا گیا۔دوست ممالک کے زریعے سے بھی انٹیلجنس شئیرئنگ ہو گی،اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ کشمیر کے بارے میں جو ماڈل بھارت نے تیار کیا ہے پاکستان اس کو مسترد کرتا ہے۔اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیریوں کی سیاسی،اخلاقی اور ہر طرح کی مدد جاری رکھی جائے گی۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More