Advertisement

تحریک انصاف کی حکومت نے ایک سال کے دوران 9.8 ارب ڈالرز کا قرض واپس کر دیا

Advertisements

وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ہم نے اس سال 9.8 بلین ڈالر قرض واپس کیا، ہر سال 10بلین ڈالر واپس کریں گے، امپورٹ 20 بلین ڈالر سے کم ہوکر12 ڈالر کی رہ گئی ہیں،ابھی تک21 لاکھ لوگ ٹیکس ریٹرن جمع کرواچکے ہیں،معاشی اور خارجی ترقی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے۔

انہوں نے آج اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج اسمبلی میں پی پی اورپی ٹی آئی میں تلخی کراچی کے واقعے پر ہوئی ہے، ہمارے ایم این اے نے پانی کے مسئلے پراحتجاج کیا، ان کو حراست میں لیا گیا، اس کی مذمت کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان دوتین دنوں سے مذہب کا استعمال کررہے ہیں، یہ اس وقت ہے جب کشمیر کے مسئلے پر بڑی پیشرفت ہوئی ہے، جب ٹرمپ نے ہندوستان کو بڑا واضح پیغام دیا ہے ۔

ساتھ ہی کشمیر کمیٹی کے سابق سربراہ کوپاکستان کی سیاست میں کیڑے نظر آنا شروع ہوگئی۔ کل انہوں نے انتہائی نامناسب زبان استعمال کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان مذہبی کارڈ استعمال کررہے ہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی ان سے دوری اختیار کرے۔ کیونکہ دونوں جماعتوں کا پرانا وعدہ ہے کہ وہ مذہب کارڈ استعمال نہیں کریں گے، اب وقت ہے کہ وہ خود کومولانا فضل الرحمان سے علیحدہ کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ کل عرفان صدیقی پر جس طرح کرایہ داری ایکٹ کے قانون کا اطلاق کیا گیا۔میر ی نظر میں کرایہ داری ایکٹ کا نفاذ مولانا فضل الرحمان پر ہونا چاہیے۔جن کو پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے اپنی لیڈرشپ کو چھڑوانے کیلئے کرائے پر حاصل کیا ہے۔ایک دن ہیں کہتے ہیں ہم سلیکٹڈ ہیں دوسرے دن کہتے ہیں کہ سبھی کچھ ہم کروا رہے ہیں۔ایک بات کریں یا کہیں سارا سسٹم عمران خان چلا رہے ہیں یا پھر کہیں عمران خان سسٹم نہیں چلا رہے ہیں،اپوزیشن کا جوبھی احتجاج ہے وہ بے تکا ہے، ایک کیس نوازشریف یا آصف زرداری کابنایا ہو، وہ پی ٹی آئی کے دور میں نہیں بنے، تفتیشی افسران بھی انہی کے دور کے کررہے ہیں۔

فواد چودھری نے کہا کہ میڈیا میں مولانا فضل الرحمان کے بیانیئے پر جو بات ہورہی ہے،وہ نامناسب ہے۔ ہم میڈیا پربالکل پابندیاں نہیں لگا رہے ہیں۔میں میڈیا کو دعوت دیتا ہوں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کررولز آف گیم طے کریں۔جعلی خبروں کا تدارک میڈیا اورحکومت دونوں کے حق میں ہے۔پاکستان اور افواج پاکستان کے وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔وزیراعظم روسی صدر کی دعوت پر دورہ کریں گے، پھر انڈیا روس سے پوچھتے ہیں کہ وہ آرہے ہیں، توپھر اسی خبر کو دوبارہ پاکستانی میڈیا چلاتا ہے۔

اس سے اپنے ہی وزیراعظم کا وقار خراب کیا جاتا ہے۔مولانا فضل الرحمان جتنی خدمت بطور سربراہ کشمیر کررہے تھے اتنی ہی اب کررہے ہیں،اپوزیشن احتساب کے عمل میں رکاوٹ نہ بنے، اور مولانا فضل الرحمان کے ہاتھوں میں نہ کھیلے، مدرسوں کے بچوں کو لاکر ان کے سر پر سیاست کی جائے، ایک طرف مذہبی کارڈ کھیلنے سے روکتے ہیں، اگر ہم مذہبی سیاست کی اجازت تحریک لبیک کو نہیں دے رہے، تو مولانا فضل الرحمان کو کیسے اجازت دیں گے۔

چھوٹے مفاد کیلئے اگر بڑی جماعتیں اس جماعت سے جوڑیں گے جن کو دنیا اچھا نہیں سمجھتی ، وہ خود کو ان سے الگ کریں۔ صحافیوں کو چاہیے کہ مذہبی انتہاپسندوں کے ہاتھوں یرغمال ہوں گے اور ان کی تقریریں کریں گے، توپھر آزادی صحافت کا دعویٰ نہیں کرسکتے، ہم پاکستان کو 80اور 90ء کی دہائی میں نہیں جانے دیں گے۔ہم تمام سیاسی جماعتوں کو جلسے جلسوں کی اجازت دیں گے۔

کنٹینرزبھی دیں گے، لیکن اپوزیشن جماعتیں قانون کے دائرے میں رہیں اور مسلح ہوکر سیاست نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے معیشت میں اصلاحات کی ہیں، 21 لاکھ لوگ ٹیکس ریٹرن جمع کرواچکے ہیں،ہمارا ٹارگٹ 40 لاکھ ہے۔پاکستان کو امپورٹ سے صنعتی معیشت کی طرف لائے ہیں،سیاست اور خارجہ امور کو دیکھ رہے ہیں، اس طرح کی رکاوٹیں راستے میں نہیں آنے دیں گے۔ ہم جب حکومت میں آئے تھے توہم نے طے کیا تھا کہ 10ارب ڈالر اس سال واپس کرنے ہیں، اور 10 ارب اگلے سال واپس کرنے ہیں، ہم نے اس سال 9.8 بلین ڈالر واپس کیے ہیں۔ہماری امپورٹ 20 بلین ڈالر سے کم ہوکر12ڈالر کی رہ گئی ہیں،ہم نے ایک سال میں معیشت اور خارجہ پالیسی کی بنیاد اور سمت درست کی ہے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More