Advertisement

سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر۔۔۔پاکستان کو دُنیا کو پیغام , وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ پر آرمی چیف بھی ساتھ جائیں گے

Advertisements

امریکہ نے وزیراعظم عمران خان کو دورے کی دعوت دینے کی تصدیق کرتے ہوئے باقاعدہ اعلان کر دیاہے۔وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان22جولائی کو دورے پر امریکہ آرہے ہیں اور وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم عمران خان کا استقبال کریں گے۔ وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

۔معروف صحافی صابر شاکر کا وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کیا اور دونوں کوایک میز پر بٹھایا۔وزیراعظم عمران خان کا شروع سے موقف ہے کہ افغان کے مسائل کا حل مذاکرات میں ہے اور ان کے اس موقف کو سراہا بھی گیا۔ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان مستقبل کے افغانستان کے لیے مدد کرے۔

اس کے بعد ایران کا تنازع بھی آتا ہے اور سی پیک کے علاوہ کشمیر کا بھی ایشو ہے۔صابر شاکر کا کہنا تھا کہ اس دورے کے بعد پاکستان اور امریکا کے پاس اچھی شروعات کرنے کا موقع ہے۔اس دورے میں ٹریڈ پر بات ہو گی اور انفرا اسٹرکچر پر بات ہو گی ۔ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری پر پر بات ہو گی۔ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان ان کے ہاتھوں سے نکل کر دوسرے بلاک میں نہ چلا جائے۔

اسی طرح سے پاکستان بھی امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔صابر شاکرکامزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے دورے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔کیونکہ آرمی چیف آف پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ بھی وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ہوں گے۔ایسا نہیں ہے کہ ملٹری لیڈر شپ کچھ بات کرے گی اور سول لیڈر شپ کوئی اور بات کرتی ہے۔سول اور ملٹری دونوں قیادتیں اکھٹے امریکا کا وزٹ کریں گی۔اور اس دورے سے اچھے کی توقع ہے۔صابر شاکر نے مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے:

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings