Advertisement

ویڈیو ریلیز کے بعد عدالت سے رجوع نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے اب نواز شریف ن لیگ کی ہی قید میں ہوں، اعتراز احسن کے انٹرویو میں حیران کن دعوے

Advertisements

پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء اور ممتاز قانون دان چوہدری اعتراز احسن نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کیس کے حوالے سے ویڈیو ریلیز کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کا عدالت سے رجوع نہ کرنا ایسے ہی ہے کہ جیسے اب میاں نواز شریف مسلم لیگ (ن) کی ہی قید میں ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کو فوری طور پر یہ ویڈیو عدالت میں پیش کرکے میاں نواز شریف کیلئے آسانی پیدا کرنی چاہیے محض ویڈیو ریلیز کرنے سے میاں نواز شریف رہا نہیں ہوں گے بلکہ عدالت میںاس ویڈیو کو سچا ثابت کرکے میاں نواز

شریف کو رہا کروالینا چاہیے۔ جس دن یہ ویڈیو عدالت میں سچ ثابت ہوگئی اس دن حکومت کیلئے یہ بہت بڑا دھماکہ ہوگا۔ گزشتہ روز ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر یہ ویڈیو سچ ثابت نہ ہوئی تو پھر کئی لوگ پکڑ میں آجائیں گے۔ پریس کانفرنس کرنے والے کئی لوگ مشکل میں پھنس جائیں گے اور اگر ویڈیو لے کر کوئی بھی عدالت نہ گیا تو پھر میاں نواز شریف جیل میں ہی رہیں گے۔ میاں نواز شریف کی رہائی جیلر کو ویڈیو دکھا کر نہیں ہوسکتی بلکہ ایک عدالتی حکم ہی انہیں آزاد کر سکتا ہے کیونکہ وہ ایک عدالتی حکم پر ہی جیل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک بڑی جماعت ہے اور اس کے سنجیدہ لیڈروں نے مریم بی بی کے آس پاس بیٹھ کر جو پریس کانفرنس کی ہے وہ وزن رکھتی ہے یہ امید کی جارہی تھی کہ اگلا قدم مسلم لیگ (ن) کا یہ ہوگا کہ خواجہ حارث قیادت کے ساتھ بیٹھ کر اعلان کرتے کہ ہم ویڈیو لے کر عدالت جا رہے ہیں لیکن مریم بی بی اور دوسرے لوگ اس میں مسلسل تاخیر کررہے ہیں۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ اصل ویڈیو کا فرانزک لازمی ہونا چاہیے اور جب معاملہ عدالت میں جائے گا تو اس کے تمام پہلوؤں پر جرح ہوگی۔ چونکہ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے اس لئے مسلم لیگ (ن) کو مدعی بن کر خود عدالت سے رجوع کرنا ہوگا اور پھر مسلم لیگ (ن) نے اس ویڈیو کو سچ ثابت کردیا توپھر حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی اور میاں نواز شریف جیل سے باہر آجائیں گے۔ اور اگر یہ ویڈیو ٹمپرڈ ثابت ہوگئی تو مریم بی بی سمیت کئی لوگ مشکل میں آجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو دی گئی سزا کی جو آڈیو ٹیپس سامنے آئی تھیں ان کی تردید نہ تو جسٹس (ر) ملک قیوم نے کی تھی اور نہ ہی جسٹس راشد عزیز نے کی تھی اور نہ ہی شہباز شریف اور میاں نواز شریف نے آج تک کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اگر اس ویڈیو کو درست سمجھتی ہے تو عدالت جانے میں تاخیر نہ کرے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings