Advertisement

کھوپڑی کے بیچوں بیچ اسمارٹ فونز کی وجہ سے کیا تبدلیاں ہونے لگیں

Advertisements

دنیا بھر میں اسمارٹ فونز کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس کے جو بھی اثرات مرتب ہوں مگر اب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ یہ عادت ہمارے جسم کو بھی بدلنے لگی ہے۔جی ہاں ممکنہ طور پر اسمارٹ فونز کا بہت زیادہ استعمال کھوپڑی کی ساخت کو بدلنے کا باعث بن رہا ہے اور ایسا نوجوانوں میں زیادہ نظر آرہا ہے۔یہ دعوی آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔سن شائن کوسٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ متعدد افراد کے گلے سے اوپر ایک چھوٹی سی عجیب ہڈی بن رہی ہے اور یہ کئی بار یہ اتنی بڑی ہوتی ہےاسے کھوپڑی کی بنیاد کو انگلیوں سے دبا کر بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ گزشتہ دہائی کے دوران لوگوں کی کھوپڑی میں اس عجیب نشوونما کو دریافت کیا گیا۔اس کی وجہ کی واضح شناکت تو نہیں ہوسکی مگر محققین کے خیال میں اس کی وجہ اسمارٹ ڈیوائسز کو گردن ایک انداز میں رکھ کر استعمال کرنا ہوسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق انسانی سر کافی وزنی ہوتا ہے

جس کا وزن ساڑھے 4 کلو تک ہوسکتا ہے اور اسے اسمارٹ فونز کے استعمال کے لیے جھکا کر رکھنا گردن پر بوجھ بڑھاتا ہے۔اس کی وجہ سے اکثر افراد کو گردن میں تکلیف کا بھی سامنا ہوتا ہے جسے ٹیکسٹ نیک بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ گردن کے مسلز پر عجیب انداز میں سر جھکانے کی وجہ سے پڑنے والا دبائو ہوتا ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 18 سے 30 برس کے افراد کی کھوپڑیوں میں تبدیلی بہت تیزی سے عام ہورہی ہے۔اس تحقیق کے دوران 18 سے 86 سال کی عمر کے ایک ہزار افراد کی کھوپڑیوں کا اسکین کیا گیا اور محققین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سر جھکا کر نیچے دیکھنا ہوسکتی ہے۔یعنی گھنٹوں اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ پر اسکرولنگ کرتے ہوئے گزارنا گردن کے مختلف حصوں پر دبائو بڑھاتا ہے جس سے یہ تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ گردن کے مسلز زیادہ بڑے اور مضبوط ہوسکیں اور اس کے نتیجے میں کھوپڑی میں ہڈی کی ایک نئی تہہ بن جاتی ہے جبکہ وہ حصہ زیادہ کشادہ ہوجاتا ہے۔

Advertisement

Source daily ausaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings