Advertisement

اسد عمر ملک کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچانے والے ہی تھے کہ ان کی وزارت چلی گئی

Advertisements

معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا ایک جھگڑا چل رہا ہے۔اسد عمر اب قائمہ کمیٹی کے چئیرمین ہیں،جب وہ وفاقی وزیر تھے تب ان کے پاس ایک لسٹ آئی جس میں لکھا ہوا تھا کہ 600 سے زائد غیر ملکی اکاؤنٹس میں کئی ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔یہ سب دیکھتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ابھی ایمنسٹی سکیم شروع نہ کی جائے اور ان اربوں ڈالر کے خلاف کاروائی کی جائے۔لیکن اس کے بعد داسد عمر کی وزارت چلی گئی۔جب اسد عمر قائمہ کمیٹی میں آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ایمنسٹی سکیم کے تحت ان اربوں ڈالرز کا کالا دھن کیسے سفید ہوگیا،جس پر اسد عمر ناراض ہوئے اور کہا کہ میں تو ایمنسٹی سکیم میں اسی لیے تاخیر کی تھی تاکہ ان اکاؤنٹس کے خلاف کاروائی کی جائے۔ واضح رہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بتایا گیا ہے

کہ مالی سال2018-2019 کے اختتام پر بینکوں کے ڈپازٹس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ سٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کے ڈپازٹس14 ہزار ارب روپے سے زائد ہو چکے ہیں۔مرکزی بینک نے بتایا ہے کہ ڈپازٹس میں اضافے کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے جون میں متعارف کروائی گئی اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم (ایمنسٹی سکیم) کے تحت بینکوں میں جمع کرائی گئی رقم ہے۔ ۔سٹیٹ بینک کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جون میں بینکوں کے ڈپازٹس ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا سلسلہ برقرار رہا، 17 سال میں بینکوں کے ڈپازٹس 13000 ارب روپے بڑھے ہیں۔اسٹیٹ بینک کا مزید کہنا ہے کہ مالی سال 2019ء میں بینکوں کے ڈپازٹس 1395 ارب روپے اضافے سے 14458 ارب روپے ہو گئے ہیں۔سٹیٹ بینک نے یہ بھی کہا ہے کہ مالی سال 2018-2019 میں بینکوں کے ڈپازٹس میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

Advertisement

Source daily ausaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings