Advertisement

وزارت قانون کو عوامی دولت لوٹنے والوں سے جیل میں اے کلاس کی سہولت واپس لینے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت

Advertisements

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ عوامی دولت لوٹنے والوں سے اے کلاس جیل کی سہولت واپس لینے کے لئے قانون میں ترمیم کریں۔

نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس امکان کو مسترد کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ کوئی ڈیل ہو گی اور کہا کہ عوامی پیسہ لوٹنے والے ایسے افراد کو جیل کے ان سیلوں میں رکھنا چاہیے جہاں عام چوری کے الزامات کے قیدی جیل کاٹتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی قیدی اے کلاس جیل کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں اور سوال کیا کہ قومی دولت لوٹنے والوں کو یہ استحقاق کیسے دیا جا سکتا ہے، ایسے لوگوں کو دیگر چوروں کی طرح عام جیلوں میں بھیجنا چاہیے۔

معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ میں سنی سنائی بات نہیں کر رہا بلکہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں کہ بلاول بھٹو زرداری بھی گرفتار ہو سکتے ہیں۔جب انہوں نے پارک لین والے حصے پر دستخط کیے تو ان کی عمر 21 برس تھی۔یہ بات مجھے ایک بہت ہی سینئر افسر نے بتائی ہے۔اس کے علاوہ مراد علی شاہ بھی گرفتار ہو سکتے ہیں ہیں۔

جبکہ سندھ میں نئے وزیر اعلی کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔واضح رہے قومی احتساب بیورو (نیب) نے پارک لین کیس میں بھی آصف علی زرداری کی گرفتاری ڈال دی ہے۔ جس پر نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کی یہ گرفتاری بلاول کے لیے بھی الارمنگ ہے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا کہ اس گرفتاری کے پیش نظر مستقبل میں چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ اور سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی رہنما نیب کے نشانے پر ہیں۔ جبکہ نیب حراست میں موجود سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف قومی احتساب بیورو نے ایک اور گرفتاری ڈال دی ہے جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آج کل سیاسی میدان میں کافی زیادہ متحرک ہیں اور انہوں نے حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن دوسری جانب نیب نے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے اور مختلف کیسز میں ان کے خلاف ثبوت و شواہد اکٹھا کیے جا رہے ہیں۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings