Advertisement

زرداری پارک لین کیس میں بھی گرفتار ، کمپنی کے ذریعےاسلام آباد میں 2 ارب مالیت کی اڑھائی ہزار کنال زمین کتنے میں خریدی گئی؟جانئے

Advertisements

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو پارک لین کیس میں بھی گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں زیر حراست سابق صدرآصف زرداری کی دوسرے کیس میں بھی گرفتاری ظاہر کردی۔ آصف زرداری احتساب عدالت میں پیش ہوں گے تو نیب کی جانب سے پارک لین کیس میں بھی ان کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا جائے گا۔آصف زرداری اور ان کے بیٹے بلاول پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی کمپنی پارک لین اسٹیٹس پرائیوٹ لمیٹڈ کے ذریعے 1994ء سے

2009ء کے دوران اسلام آباد کی بیش قیمت 2460 کنال زمین صرف 6 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدی تھی جبکہ اس کی قیمت دو ارب روپے سے بھی زیادہ تھی۔یہ سودا پاکستانی نژاد امریکی شہری محمد ناصر خان کے ذریعے کیا گیا جسے آصف زرداری کا فرنٹ مین قرار دیا گیا تھا۔ آصف زرداری پر الزام ہے کہ انہوں نے یہ ڈھائی ہزار کنال زمین زبرستی حاصل کی اور وہاں سے300 خاندانوں کو بے دخل کیا۔ یہ زمین وہاں کے مالکان سے چار ہزار روپے فی کنال کے حساب سے حاصل کی گئی تھی۔یاد رہے کہ آصف زرداری نے گزشتہ ہفتے پارک لین اور بلٹ پروف گاڑیوں کے کیسز میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ضمانت کی درخواستیں واپس لے لی تھیں۔ وہ جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں پہلے ہی گرفتار ہیں۔

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ زرداری صاحب جو بات کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں، وہ صدر پاکستان بھی رہ چکے ہیں،میرا خیال نہیں کہ زرداری صاحب سینٹ کے چیئر مین بنیں گے،زرداری صاحب جسے چاہیں اسے سینٹ چیئر مین بنا سکتے ہیں،موجودہ چیئر مین صادق سنجرانی کو بھی زرداری صاحب نے ہی چیئر مین بنوایا تھا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو سنے بغیر ہی بجٹ زبردستی منظور کروایا گیا ہے، اس میں لوگوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے، مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے،اپوزیشن نے تجاویز دیں مگر وفاق نے نہیں سنیں،ہم وفاق کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت برے طریقے سے ناکام ہو چکی ہے،اس ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہے، ہر طبقے کے لوگ چاہے وہ بزنس مین، کسان، غریب و امیر ہو یا مزدور ہو ہر ایک یہ کہہ رہا ہے کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے اور جو حکومت چلا رہے ہیں انہیں حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے ارکان اسمبلی کی وزیر اعظم سے ملاقات کے بارے میں نواز لیگ سے پوچھا جائے،اپوزیشن کے ممبران کو لالچ دے کر یا ان کو حراساں کر کے وفاداریاں تبدیل کی جا رہی ہیں جو کہ قابل مذمت ہے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings