Advertisement

روپے کی قدر گرانے کے ذمہ دار الزام ہم پر لگا رہے ہیں، منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈاﺅن کریں گے: وزیراعظم

Advertisements

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ایوان میں بڑی دکھ بھری تقریر کی تھی کہ ڈالر اوپر جا رہا ہے مگر اس کیساتھ ہی انہیں یہ بھی بتانا چاہئے تھا کہ روپے کی قدر کم کیوں ہوئی، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ سابق حکمرانوں نے ملک سے پیسہ باہر بھجوایا، حدیبیہ پیپر ملزم اور ہل میٹل میں سارا پیسہ باہر جا رہا تھا جبکہ زرداری خاندان کی اومنی گروپ اور جعلی اکاﺅنٹس میں تمام چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کے پاکستانیوں کا دس ارب ڈالر باہر پڑا ہوا ہے جبکہ اس ملک میں روپے کی قدر گرنے کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے کیونکہ یہاں سے پیسہ چوری کر کے باہر بھجوایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جن پر پبلک کے پیسے چوری کرنے کا الزام ہے وہ اسمبلی میں تقریر کیسے کرسکتا ہے ، اپوزیشن کس منہ سے حکومت پر تنقید کر رہی ہے؟ سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہر دوسرے دن لوگوں کو اکٹھا کر لیتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ این آر او لینے والے کس منہ سے سلیکٹڈ کی بات کرتے ہیں، خسارہ چھوڑ کر جانے والے ہم پر الزام لگا رہے ہیں اور نیلسن منڈیلا کی جعلی آواز میں ہم پر الزام لگاتے ہیں ، کبھی سنا ہے جو ملک کو مقروض کر کے جائے وہی باتیں کرے ؟ یہاں سے پیسہ باہر لے جانے کے ذمہ دار تو یہ لوگ ہیں، جسے عدالت نے مجرم ڈکلیئر کیا اسے پارٹی کا سربراہ بنایا گیا جبکہ پی اے سی میں وہ بیٹھ جاتا ہے جس پر اربوں روپے کی چوری کے چارجز ہیں ، برطانیہ میں جس پر عوام کے پیسے چوری کرنے کا الزام لگ جائے وہ ایوان میں تقریر نہیں کر سکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بڑی سن رہے تھے حکومت گرائی جائے گی بجٹ پاس نہیں ہو گا ، بجٹ پاس ہونے پر پارٹی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ بجٹ میں نوجوانوں کے روزگار کیلئے 100ارب روپے رکھے ہیں جبکہ ہاﺅسنگ کی مختلف سکیموں کا افتتاح کیا بھی کیا جائے گا جس سے 40 مختلف صنعتوں کو فائدہ ہو گا ۔ مشکل وقت میں غریب آدمی پر کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غریب آدمی کیلئے احساس پروگرام شروع کر رہے ہیں ، 75 فیصد بجلی کے صارفین کو سہولت دینے کیلئے 270 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے مشکل حالات کے باوجود بجٹ نہ لینے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ہمارے بجٹ نہ لینے سے جو پیسہ بچے گا، ہم چاہتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور فاٹا پر خرچ ہو جبکہ اگلے ہفتے کسانوں کی فلاح کیلئے جامع پلان کا اعلان بھی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے نیا این ایف سی ایوارڈ آیا ہے تو صوبوں کو پیسے دینے کے بعد مرکز خسارے میں چلا جاتا ہے اور قرضے لے کر اپنے خرچے پورا کرنا پڑتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل میں یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہروں کا دھیان رکھیں لیکن چونکہ کراچی میں خرچ ہونے والا پیسہ وہاں خرچ نہیں کیا گیا تو ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ کراچی کیلئے خصوصی پیکیجز لائے جائیں اور ابتدائی طور پر ہم 45 ارب روپے کا پیکیج دے رہے ہیں جبکہ مستقبل میں مزید بھی دینے کی کوشش کریں گے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings