Advertisement

سوئس بینکوں میں رکھے گئے پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر واپس لانے کے دعوے لیکن عمران خان کو یہ کامیابی کبھی نہیں مل سکتی کیونکہ ۔ ۔ ۔

Advertisements

سوئس بینکوں میں رکھی پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر کی رقم واپس لانے کیلیے دعوے کیے گئے مگر یہ اب ایک فرضی رقم ہی رہے گی اور حکومت کو کبھی کامیابی نہیں مل سکتی کیوںکہ سوئٹزز لینڈ سینٹرل بینک اور سوئس نیشنل بینک کی گزشتہ روز جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانیوں کی یہ رقم 34 فیصد کمی کے ساتھ 73 کروڑ 80لاکھ ڈالر رہ گئی ہے، وہاں پر اتنی رقم موجود ہی نہیں جن کے بارے میں حکومت دعوے کرتی رہی ۔ 

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کمی 2008 میں پاکستانیوں کے اپنے براہ راست کھاتوں میں پڑی رقم کی مناسبت ہے جبکہ کسی امین کے ذریعے بالواسطہ کھاتوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔سالانہ رپورٹ میں سوئس بینکوں میں پاکستانی رقوم میں کمی کی وجہ 2015 میں پاکستان اور سوئٹرزلینڈ کے درمیان ہونے والا ٹیکس معاہدے کو بتایا گیا ہے جس کے بعد پاکستانیوں کے سوئس کھاتوں میں 49 فیصد کمی ہو گئی۔ 2014ء میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔اسحق ڈار نے اپنے تحریری جواب میں بتایا تھا کہ حکومت مذکورہ رقم کی واپسی کیلیے سوئس حکام سے رابطے میں ہے،

اگست 2014 میں پاکستان نے سوئٹزرلینڈ سے بینک کھاتوں کی معلومات کا ابتدائی معاہدہ کیاجس کی بدولت 2015ء کے اوائل میں پاکستان کو سوئس کھاتوں کی معلومات تک رسائی دی جانی تھی تاہم ستمبر 2014ء میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے ابتدائی معاہدہ ہو جانے کے باوجود دوبارہ مذاکرات شروع کر دیے۔ مئی 2017ء میں وفاقی کابینہ نے پاک سوئس دوطرفہ معاہدے کی منظوری دیدی تاہم اس میں پرانی ٹرانزیکشنز کا احاطہ نہیں کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ ارکان خاص طور پر وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید برملا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت سوئس بینکوں میں پڑے پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر واپس لائے گی تاہم گزشتہ 11 ماہ کے دوران کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔وزیر مملکت ریونیو حماد اظہربھی 152,000 سوئس بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی کا دعویٰ کر چکے ہیں،ان کے بقول یہ تفصیلات اقتصادی تعاون اور ترقی کی عالمی تنظیم کے توسط سے حکومت کو موصول ہوئی ہیں تاہم سوئٹزرلینڈ ان 28 ممالک میں شامل ہی نہیں جو اپنے بینکوں کے کھاتوں کی تفصیل دینے کے پابند ہیں۔پاکستان نے سوئس حکومت نے بینک کھاتوں کی معلومات کے تبادلے کا ایک اور ایم او یو سائن کیا ہے تاہم اس حوالے سے بھی تاحال کو ئی پیش رفت نہیں ہے۔

Advertisement

Source daily pakistan

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings