Advertisement

مائیک پومپیو کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں،ہم وہ کریں گے جو ہمارے قومی مفاد میں ہوگا،بھارت نے صاف جواب دے دیا

Advertisements

امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو نے تجارت اور ٹیرف پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود بھارت کا دورہ کیا اور وزیراعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بتایا کہ مائیک پومپیو اور نریندر موودی نے امریکا اور بھارت کے تعلقتات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ ہماری شراکت داری میں مزید اضافے کے لیے ایک ساتھ کام کررہے ہیں۔ مائیک پومپیو نے بعد ازاں اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کی۔رویش کمار نے کہا کہ اعلی

سطح بھارت-امریکا بات چیت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر خارجہ امور نے امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو کا پرجوش استقبال کیا، جو انتخابات کے بعد بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی نمائندے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سبرامنیم جے شنکر کے بطور وزیر خارجی امور تعینات ہونے کے بعد مائیک پومپیو ان سے ملاقات کرنے والے پہلے وزیر خارجہ ہیں۔مشترکہ پریس کانفرنس میں جے شنکر نے کہا کہ ’ہمارے بہت سے ممالک سے تعلقات ہیں، جن میں سے کچھ کی ایک تاریخ ہے، ہم وہ کریں گے جو ہمارے قومی مفاد میں ہوگا‘۔مائیک پومپیو ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی اتحاد کے قیام کے مقصد کے تحت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور افغانستان کا دورہ کرنے کے بعد گزشتہ شب نئی دہلی پہنچے تھے۔گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں دوسری مدت کے لیے نریندر مودی کی کامیابی کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلی ملاقات ہے۔دونوں ممالک میں رواں ماہ ایک دوسرے کی کچھ مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کے باوجود ایک دوسرے کو اسٹریٹیجک پارٹنر قرار دیتے ہیں۔یکم جون کو امریکا نے بھارت کو تجارت میں حاصل ترجیحی سہولت کا درجہ ختم کردیا تھا جس کے جواب میں بھارت نے 16 جون کو اخروٹ اور بادام سمیت 28 امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے تھے۔ٹرمپ انتظامیہ نے المونیم اور اسٹیل سمیت مختلف مصنوعات پر اضافی ڈیوٹی عائد کی تھی۔ مائیک پومپیو کا دورہ جاپان میں منعقد ہونے والے جی-20 اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی طے شدہ ملاقات سے قبل کیا گیا۔دونوں ممالک کے حکام کی جانب روس کے ایس -400 فضائی دفاعی نظام خریدنے سے متعلق بھارتی منصوبے پر تبادلہ خیال کا بھی امکان ہے۔امریکا نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن گزشتہ دو سال میں امریکا، بھارت کو دفاعی ہتھیاروں کا سب سے بڑا سپلائر بن چکا ہے۔

بھارت اور امریکا کے درمیان تجارت میں سالانہ 150 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا سے سیاسی، اسٹریٹیجک اور ایران سمیت مختلف مسائل پرکچھ اختلافات ہیں لیکن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کو تجارت اور کامرس پر محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔امریکا کی جانب سے ایرانی پر پابندی عائد کرنے کے بعد بھارت نے تیل کی خریداری روک دی تھی لیکن ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی تحفظات کو سمجھتے ہیں لیکن ایرانی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings