Advertisement

پنجاب حکومت نے قطر اور متحدہ عرب امارات کے شہزادوں کو وہ کام کرنے کی اجازت دیدی جس پر ماضی میں عمران خان سب سے زیادہ تنقید کرتے رہے ہیں

Advertisements

پنجاب حکومت نے عرب، یو اے ای، اور قطر کے شہزادوں کے تلور کے شکار کی منظوری دے دی ہے عارضی طور پر دسمبر میں نوٹیفکیشن جاری کر کے ان کو علاقے الاٹ کر دئیے گئے تھے جس پر محکمہ قانون نے اعتراض عائد کیا تھا کہ اس کی منظوری صوبائی کابینہ ہی دے سکتی ہے جس پر سیکرٹری جنگلات نے کیس منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کو بھجوایا گیا صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد محکمہ جنگلات نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

روزنامہ نوائے وقت کی رپورٹ کے مطابق اس سال وزارت خارجہ کی ہدایات پر تقریبا 12 سے زیادہ شہزادوں کو جھنگ ، بھکر، لیہ ، خوشاب ، بہاولپور، بہاولنگر، راجن پور ، ڈی جی خان ، چکوال ، سرگودھا ، میانوالی، ملتان، وہاڑی ، اور مظفر گڑھ کے اضلاع الاٹ کئے گئے تھے وائلڈ لائف ایکٹ 2007 کے تحت صوبے میں تلور کے شکار پر پابندی عائد ہے اس کو شیڈول تھری میں رکھا گیا ہے تاہم دو ماہ کے لئے عرب شہزادوں کے شکار کے لئے اس کو شیڈول ون میں کرنے کی منظوری اب دی گئی ہے شیڈول ون کی وجہ سے ان کو شکار کرنے کی اجازت تھی۔ محکمہ جنگلات کے مطابق وہ وزرات خارجہ کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہیں کیونکہ حکومت نے اس کی منظوری دی تھی تاہم عارضی طور پر تلور کے شکار کی اجازت افراد کو دی گئی تھی مستقل طور پر تلور کے شکار پر پابندی عائد ہے۔ عرب شہزادوں جن میں شیخ محمد بن راشد وزیر اعظم دبئی ، شیخ ہمدان بن راشد کروان پرنس آف دبئی کو ڈسٹرک مظفر گڑھ کا علاقہ الاٹ کیا گیا تھا۔

محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کروان پرنس سعودی عرب کو ڈسٹرک وہاڑی ، ملتان ، میانوالی اور سرگودھا کا علاقہ الاٹ کیا گیا تھا۔ شیخ خلیفہ بن زائد النہیان صدری یو اے ای اور شیخ محمد بن زائد کروان پرنس یو اے ای کو ڈسٹرک رحیم یار خان، راجن پور ، ڈی جی خان اور چکوال کے اضلاع شکار کے لئے الاٹ کئے گئے تھے۔ وزارت خارجہ سے شکار کی اجازت کے حوالے سے رابطہ کیا گیا تو وہاں سے ذرائع کے مطابق ہر ضلع کے لئے ایک لاکھ ڈالر فیس رکھی گئی تھی جو ان عرب حکمرانوں نے ادا کی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہر عرب حکمران نے جن اضلاع میں شکار کیا ہے وہاں پر ترقیاتی سکمیں بھی منظور کی ہیں ان ترقیاتی سکمیوں کی کو مکمل کرکے اگلے ماہ متعلقہ ملکوں کے سفارت خانوں کو رپورٹ دی جائے گی۔تاہم واضح رہے کہ مسلم لیگ کے دور حکومت میںہر سال تقریبا 14 قطری شہزادے شکار کے لئے پاکستان آتے تھے۔ اور یو اے ای اور سعودی عرب کے شہزادوں کی تعداد کم ہو گئی تھی جو تقریبا 4 شہزادے آتے تھے۔ واضح رہے کہ ان سے 1 لاکھ ڈالر کی فیس بھی وصول نہیں کی جاتی تھی۔

Advertisement

Source daily pakistan

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings