Advertisement

70فیصد کے قریب ڈیل ہو چکی ۔۔۔!!! نوازشریف اور مریم نواز کو لندن جانے دیا جائیگا شہبازشریف اور حمزہ کا کیا بنے گا؟سینئر صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات‎

Advertisements

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا ہے کہ امیر قطر نے دورہ پاکستان میں 3ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا،جب پاکستان میں ڈیل یا ڈھیل کی بات ہوتی ہے تو اس میں قطر کا ایک کلیدی رول تھا،جب نوازشریف پرویز مشرف کی قید میں تھے اور ان پر کیسز تھے تو اس وقت سارا پراسس جو ڈیل کا ہوا، وہ امیر قطر کی طرف سے ہوا، پھر بعض ذرائع بتا رہے ہیںکہ اب پھر ڈیل ہورہی ہے ،عام امکان یہ ہے کہ 70فیصد کے قریب ڈیل

ہوچکی،یہ جو پاکستان کو 3ارب ڈالر ملے ہیں، اس کے علاوہ بھی 12ارب ڈالر کی سرمایہ کار ی کا بھی قطر نے کہا ہے ،میں سوفیصد تو نہیں کہہ سکتا مگر یہ بات ضرور ہورہی ہے کہ نوازشریف ، مریم نوازکو دیس نکالا مل رہا ہے ،وہ جرمانہ ادا کریں اور لندن جا کر برگر کھائیں اور اپنا علاج کرائیں، شہبازشریف اور حمزہ ملک میں ہی رہیں گے اور اپنے اوپر بنے مقدمات کا سامنا کرینگے ۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر دفاع اور(ن) لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہاہے(ن) لیگ کا بیانیہ وہی ہے جو نواز شریف کا ہے، پارٹی میں مکمل اتفاق ہے کہ بیانیہ نواز شریف کا ہے اور وہی چلے گا،نواز شریف کا بیانیہ آئین کا بیانیہ ہے کہ حاکمیت پاکستان کی عوام کی ہے۔ اگر شہباز شریف اور مریم نواز کا کوئی اختلاف ہے تو وہ ایسا نہیں جسے جھگڑے سے تشبیہ دی جاسکے۔ سابق وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ن لیگ میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ حکومت کو ہٹانے کیلئے فوری طور

پر تحریک چلائی جائے،ن لیگ میں اس موضوع پر مختلف آراء ہیں، میں شہباز شریف اور مریم نواز کی رائے کے درمیان کھڑا ہوں، ان دونوں پالیسیوں کو ملا کر ہماری پالیسی ہونی چاہئے، ان دونوں آراء کے درمیان کہیں ہمارا راستہ ہے،

نواز شریف سے میرا جذباتی لگاؤ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ میری رائے نواز شریف کی رائے کے قریب ہوگی، مجھے کلیم ہے کہ میں نواز شریف کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ خواجہ آصف نے مزیدکہا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی بات گڈ کوپ بیڈ کوپ والی نہیں ہے، مریم نے جو بات کی ہے وہ میری اور شہباز شریف کی بھی رائے ہے کہ حکومت ہماری میثاق معیشت کی پیشکش پر عملدرآمد چاہتی ہے تو بجٹ میں عوام دشمن اقدامات کو واپس لے کر عوام دوست اور بزنس فرینڈلی بجٹ بنایا جائے، بجٹ میں ترامیم کی جاسکتی ہیں اس کیلئے بجٹ میں ایک دو دن تاخیر بھی ہوجائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر ہماری تجاویز پر پیشرفت ہوتی ہے تو حکومت اور اپوزیشن میثاق معیشت بھی کرسکتی ہیں۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings