Advertisement

9ماہ تک پیٹ میں بچہ اور پتہ تک نہیں۔۔ صرف2گھنٹے پہلے معلوم ہونے پر بچے کی ولادت

Advertisements

نوماہ کی حاملہ خاتون کے ہاں دوگھنٹے قبل معلوم ہونے پربچے کی ولادت دردکی شکایت پرلہ شارلٹ ہسپتال پہنچیں جہاں ڈاکٹرنے چیک کرکے بتایاوہ حاملہ ہیں،دوگھنٹے بعدبچے کی پیدائش برطانیہ میں ایک 21سالہ لڑکی نے صرف دوگھنٹے قبل معلوم ہونے پر کہ وہ حاملہ ہے ایک بچے کو جنم دیا ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں ایک خاتون کے متعلق یہ بات سامنے آئی کہ انھیں اس وقت یہ پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہے جب ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ جسے وہ عام درد سمجھ رہی ہیں دراصل وہ دردِ زہ ہے۔

انگلینڈ کے شہرر نیو کاسل میں رہنے والی 21 سالہ شارلٹ ٹامسن گذشتہ ہفتے اچانک شہ سرخیوں میں آ گئیں۔وجہ حیران کن انداز میں بچے کی ولادت تھی۔ ہسپتال جانے سے قبل تک ان میں حاملہ ہونے کی کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ان کا پیٹ پوری طرح سے چپٹا تھا جبکہ حمل کے تیسرے ماہ سے ہی پیٹ میں ابھار نظر آنے لگتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔انھوں نے نورتھمبرا سپیشلسٹ ایمرجنسی کیئر ہسپتال صرف دوگھنٹے قبل معلوم ہونے والے مولی نامی ایک بچے کو جنم دیا جو اب دو سال کا صحت مند بچہ ہے۔ولادت کرانے والی ماہر ڈاکٹر ونیسا میکے نے بتایا کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس کے سبب کسی کو اپنے پیٹ میں پلنے والے حمل کا علم نہیں ہو پاتا۔ انگلینڈ کے شہرر نیو کاسل میں رہنے والی 21 سالہ شارلٹ ٹامسن گذشتہ ہفتے اچانک شہ سرخیوں میں آ گئیں۔وجہ حیران کن انداز میں بچے کی ولادت تھی۔ ہسپتال جانے سے قبل تک ان میں حاملہ ہونے کی کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ان کا پیٹ پوری طرح سے چپٹا تھا جبکہ حمل کے تیسرے ماہ سے ہی پیٹ میں ابھار نظر آنے لگتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔انھوں نے نورتھمبرا سپیشلسٹ ایمرجنسی کیئر ہسپتال صرف دوگھنٹے قبل معلوم ہونے والے مولی نامی ایک بچے کو جنم دیا جو اب دو سال کا صحت مند بچہ ہے۔ولادت کرانے والی ماہر ڈاکٹر ونیسا میکے نے بتایا کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس کے سبب کسی کو اپنے پیٹ میں پلنے والے حمل کا علم نہیں ہو پاتا۔ انگلینڈ کے شہرر نیو کاسل میں رہنے والی 21 سالہ شارلٹ ٹامسن گذشتہ ہفتے اچانک شہ سرخیوں میں آ گئیں۔وجہ حیران کن انداز میں بچے کی ولادت تھی۔ ہسپتال جانے سے قبل تک ان میں حاملہ ہونے کی کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ان کا پیٹ پوری طرح سے چپٹا تھا جبکہ حمل کے تیسرے ماہ سے ہی پیٹ میں ابھار نظر آنے لگتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

انھوں نے نورتھمبرا سپیشلسٹ ایمرجنسی کیئر ہسپتال صرف دوگھنٹے قبل معلوم ہونے والے مولی نامی ایک بچے کو جنم دیا جو اب دو سال کا صحت مند بچہ ہے۔ولادت کرانے والی ماہر ڈاکٹر ونیسا میکے نے بتایا کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس کے سبب کسی کو اپنے پیٹ میں پلنے والے حمل کا علم نہیں ہو پاتا۔ انگلینڈ کے شہرر نیو کاسل میں رہنے والی 21 سالہ شارلٹ ٹامسن گذشتہ ہفتے اچانک شہ سرخیوں میں آ گئیں۔وجہ حیران کن انداز میں بچے کی ولادت تھی۔ ہسپتال جانے سے قبل تک ان میں حاملہ ہونے کی کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ان کا پیٹ پوری طرح سے چپٹا تھا جبکہ حمل کے تیسرے ماہ سے ہی پیٹ میں ابھار نظر آنے لگتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔انھوں نے نورتھمبرا سپیشلسٹ ایمرجنسی کیئر ہسپتال صرف دوگھنٹے قبل معلوم ہونے والے مولی نامی ایک بچے کو جنم دیا جو اب دو سال کا صحت مند بچہ ہے۔ولادت کرانے والی ماہر ڈاکٹر ونیسا میکے نے بتایا کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس کے سبب کسی کو اپنے پیٹ میں پلنے والے حمل کا علم نہیں ہو پاتا۔ انگلینڈ کے شہرر نیو کاسل میں رہنے والی 21 سالہ شارلٹ ٹامسن گذشتہ ہفتے اچانک شہ سرخیوں میں آ گئیں۔وجہ حیران کن انداز میں بچے کی ولادت تھی۔ ہسپتال جانے سے قبل تک ان میں حاملہ ہونے کی کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ان کا پیٹ پوری طرح سے چپٹا تھا جبکہ حمل کے تیسرے ماہ سے ہی پیٹ میں ابھار نظر آنے لگتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔انھوں نے نورتھمبرا سپیشلسٹ ایمرجنسی کیئر ہسپتال صرف دوگھنٹے قبل معلوم ہونے والے مولی نامی ایک بچے کو جنم دیا جو اب دو سال کا صحت مند بچہ ہے۔ولادت کرانے والی ماہر ڈاکٹر ونیسا میکے نے بتایا کہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس کے سبب کسی کو اپنے پیٹ میں پلنے والے حمل کا علم نہیں ہو پاتا۔ انگلینڈ کے شہرر نیو کاسل میں رہنے والی 21 سالہ شارلٹ ٹامسن گذشتہ ہفتے اچانک شہ سرخیوں میں آ گئیں۔وجہ حیران کن انداز میں بچے کی ولادت تھی۔ ہسپتال جانے سے قبل تک ان میں حاملہ ہونے کی کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ان کا پیٹ پوری طرح سے چپٹا تھا جبکہ حمل کے تیسرے ماہ سے ہی پیٹ میں ابھار نظر آنے لگتا ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

Advertisement

Source UrduPoint.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings