کیا آپ 7 لاکھ روپے لے کر اپنے جسم میں کورونا وائرس داخل کروانا چاہیں گے؟ انتہائی انوکھی پیشکش

HomeLatest Updates

کیا آپ 7 لاکھ روپے لے کر اپنے جسم میں کورونا وائرس داخل کروانا چاہیں گے؟ انتہائی انوکھی پیشکش

دنیا بھر میں سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لیے جتن کر رہے ہیں اور اب لندن کے سائنسدانوں نے ویکسین کی تیاری کے لیے ایسے بہادر لوگوں کی ت

کرونا سے بچائو اسلام کیا کہتا ہے ؟حضوراکرمؐ نے اللہ پاک سے اپنی امت کیلئے کونسی دعا مانگی تھی جو اللہ پاک نے قبول فرمائی تھی ؟ مولانا طارق جمیل کی خصوصی گفتگو
امریکی صدر کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہوئے یا نہیں؟ وائٹ ہاوس کا باضابطہ ردعمل سامنے آگیا
سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے والی کیا یہ واقعی ہی اٹلی میں کورونا وائرس سے مرنے والے افراد کی لاشوں کی ویڈیو ہے ؟ حقیقت سامنے آ گئی

دنیا بھر میں سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لیے جتن کر رہے ہیں اور اب لندن کے سائنسدانوں نے ویکسین کی تیاری کے لیے ایسے بہادر لوگوں کی تلاش شروع کر دی ہے جو خود کو کورونا وائرس میں مبتلا کرکے اپنے اوپر تجربات کروا سکیں۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اس تجربے کے لیے آمادہ ہونے والے رضاکاروں کو 3500پاﺅنڈ (تقریباً 7لاکھ روپے) معاوضہ دیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق ان رضاکاروں کو کورونا وائرس کی ایک قسم میں مبتلا کیا جائے گا اور لندن میں واقع کوئین میری بائیو انٹرپرائزز انوویشن سنٹر میں تنہائی میں رکھا جائے گا جس طرح کورونا وائرس کے مریضوں کو رکھا جاتا کہ ان سے وائرس آگے نہ پھیلے۔ اس مرض میں مبتلا کرنے کے بعد ان پر تجربات اور بنائی گئی ویکسین کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے جو رضاکار اپنی خدمات پیش کریں گے ان کے پہلے ٹیسٹ کیے جائیں گے اور طبی اعتبار سے فٹ لوگوں کو ہی منتخب کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کو اس تحقیق کے لیے کل 24رضاکاروں کی ضرورت ہے جن کے جسم میں کورونا وائرس کی دو اقسام 0C43اور 229Eداخل کی جائیں گی۔ اس کے بعد یہ لوگ 2ہفتے تک تنہائی میں رہیں گے اور اس دوران ان کا لوگوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہو گا اور وہ ورزش یا کوئی اور کام نہیں کر سکیں گے۔ ان کی خوراک بھی محدود کر دی جائے گی۔واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر کے ماہرین میں کورونا وائرس کی دوا ایجاد کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور لندن کی اس لیبارٹری کے ماہرین کا یہ تجربہ بھی 2ارب ڈالر کی لاگت کے اسی عالمی منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں ماہرین تجربات کر رہے ہیں۔

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0