’وہاں موت جیسی خاموشی تھی، کوئی انسان نظر نہیں آیا‘ ووہان شہر سے اپنے شہریوں کو نکالنے والے بھارتی پائلٹ نے پہلی بار آنکھوں دیکھا حال بتادیا

17

چین کی جانب سے کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے ووہان شہر کو مکمل لاک ڈاﺅن کردیا گیا ہے، اس دوران بعض ممالک نے اپنے شہریوں کو کرونا وائرس سے متاثرہ شہر سے باہر نکال لیا جن میں انڈیا بھی شامل ہے، انڈیا کے شہریوں کو ووہان سے نکالنے کے آپریشن کی سربراہی کرنے والے پائلٹ نے اب اس آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ انڈیا نے یکم فروری کو سرکاری ایئر لائن ایئر انڈیا کا بوئنگ 747 مسافر طیارہ ووہان بھیجا جو 324 مسافروں کو واپس لے کر آیا، یہی طیارہ ایک بار پھر اڑا اور دوسری بار 323 بھارتی شہریوں کو لے کر آیا۔ شہریوں کو نکالنے کے آپریشن کی نگرانی ایئر انڈیا کے سینئر پائلٹ کیپٹن امیتابھ سنگھ نے کی ، وہ کمپنی کے ڈائریکٹر آف آپریشنز ہیں جنہوں نے نہ صرف آپریشن پلان کیا بلکہ طیارے پر بطور ایگزیکٹو کمانڈر ووہان گئے تھے۔ ووہان سے واپس آنے والے شہریوں اور جہاز کے عملے کو ایک ہفتہ تک قرنطینہ (تنہائی) میں رکھا گیا تھا

جن میں کیپٹن امیتابھ سنگھ بھی شامل تھے، آج (جمعہ کو) ان کا تنہائی کا پیریڈ ختم ہوا ہے جس کے بعد انہوں نے آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ کیپٹن امیتابھ سنگھ نے بتایا کہ ایئر انڈیا کی ایمرجنسی ٹیمیں ہر وقت تیار ہوتی ہیں، جیسے ہی ہمیں ووہان کے بارے میں بتایا گیا تو ہم نے اپنی ٹیموں کو تیار کردیا اور 31 جنوری کی شام 7 بجے تک عملے کے ارکان کے ویزے حاصل کرلیے گئے۔ پائلٹ کے مطابق عملے میں کوئی خوف نہیں تھا لیکن ان کے ذہنوں میں حفاظتی اقدامات سے متعلق بہت سے سوالات تھے، عملے کو اس چیز کی گارنٹی چاہیے تھی کہ وہ واپسی پر کرونا وائرس سے متاثر ہو کر نہیں آئیں گے۔شہریوں کو ووہان سے نکالنے سے پہلے جہاز میں نشستوں کی تقسیم کی منصوبہ بندی کی گئی، ووہان سے آنے والے مسافروں کو اکانومی کلاس میں بٹھایا گیا جبکہ ڈاکٹرز اور انجینئرز کو فرسٹ کلاس میں جگہ دی گئی اور عملے کے ارکان اوپر کے ڈیک میں بیٹھے۔ یہ بھی یقینی بنایا گیا کہ مسافروں کے آنے سے پہلے ہی ان کی نشستوں پر کھانا اور پانی کی بوتلیں رکھ دی جائیں تاکہ عملے اور مسافروں کا ٹکراﺅ ہونے سے محفوظ رہا جاسکے۔ کیپٹن امیتابھ نے بتایا کہ ووہان کی فلائٹ کے دوران سب سے غیر معمولی بات یہ تھی کہ عمومی طور پر جہاز کے ریڈیو میں مختلف طیاروں کی معلومات چل رہی ہوتی ہیں لیکن ووہان میں ایسا کچھ نہیں تھا، وہاں موت جیسا سکوت چھایا ہوا تھا ، ’ ہم نے سینکڑوں فٹ کی بلندی سے شہر کی روشنیاں دیکھیں لیکن اس شہر میں زندگی کے آثار نظر نہیں آئے، نہ تو کوئی انسان اور نہ ہی کوئی گاڑی سڑک پر دوڑتی نظر آئی ، ووہان ایئر پورٹ بھی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ، سارے جہازوں کو بند کردیا گیا تھا ، یہ ایک سورج گرہن جیسا منظر تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے بھارتی شہریوں کو ایئر پورٹ پر دیکھا تو سب کے چہروں پر تشویش نظر آرہی تھی لیکن جیسے ہی وہ جہاز میں سوار ہوئے تو ان کے چہروں پر سکون آگیا۔ جب کیپٹن امیتابھ سے پوچھا گیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ دوبارہ بھی ووہان جائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ضرور جائیں گے۔