مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پلان امن کے بجائے قبضے کا منصوبہ ہے، ترک صدر نے پاکستانی پارلیمنٹ میں امریکا کو آئینہ دکھادیا

34
Turkish President Recep Tayyip Erdogan speaks to reporters before departing for a visit to Ukraine, in Istanbul, Monday, Feb. 3, 2020. Turkey hit targets in northern Syria, responding to shelling by Syrian government forces that killed at least four Turkish soldiers, the Turkish president said Monday. A Syrian war monitor said six Syrian troops were also killed.(Presidential Press Service via AP, Pool)

پاکستانی پارلیمنٹ میں امریکا کو آئینہ دکھاتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ سے متعلق منصوبے کوقبضے کا منصوبہ قراردے دیا۔پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے مسئلہ کشمیراور فلسطین سمیت کئی اہم امور پر اپنے خیالات کااظہارکیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکاکے نئے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے امن کے بجائے قبضے کا منصوبہ قرار دے دیا۔ ایردوان نے جہاں دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات کو سراہا

وہیں فلسطین، قبرص اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد اور فاصلہ مسلمانوں کے درمیان فاصلہ پیدا نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ شام کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ شام میں ہماری موجودگی کا مقصد مظلوم مسلمانوں کو جابرانہ اقدامات سے بچانا ہے۔ان کا کہنا تھا عالمی برادری نے شام کے عوام کو تنہا چھوڑ رکھا ہے لیکن ترکی 40 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔