سوشل میڈیاریگولیٹ کرنے کے عام صارفین پر کیااثرات ہوں گے؟ وزیربرائے سائنس و ٹیکنالوجی نے واضح اعلان کردیا

15
APP14-05 ISLAMABAD: September 05 - Federal Minister for Information and Broadcasting Fawad Ahmed Chaudhry and Special Assistant to the Prime Minister on Accountability, Mirza Shahzad Akbar addressing a press conference. APP photo by Saleem Rana

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری کہتے ہیں کہ اپوزیشن والے ایوان میں اگر گالم گلوچ کریں گے تو افسوس تو ہوگا۔چیئرمین نیب سے چپڑاسی تک کسی کی بھی تعیناتی ہم نے نہیں کی۔سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے سے عام صارفین کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی بلکہ جعلی اکاونٹس اور پیسے لے کر ٹرینڈ چلانے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔ فواد نے اپوزیشن کی جانب سے مہنگائی پر کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی بتائیں کہ انہوں نے ڈبل ریٹس پر پندرہ سال کیلئے گیس کے معاہدے کیوں کیے؟اپوزیشن نے یہ بھی نہیں بتایاکہ شہباز شریف نے آئی پی پیز سے معاہدے کرکے آئندہ حکومتوں کو بھی ان کی مرضی کے فکس چارجز دینے کا پابند کیوں کردیا؟ فواد کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے ایک بھی ایسی مثبت اور حوصلہ افزا بات نہیں کی گئی جس سے معیشت کی بہتری کاامکان ہو۔ہم منتظر رہے

کہ شاید اپوزیشن والے کوئی معاشی بہتری کیلئے مثبت تجاویز لائیں گی۔ انہوں نے کہا سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنا بہت ضروری ہے، یہ میڈیا روائتی میڈیا کی جگہ لے رہا ہے اس لئے اشتہارات بھی اسی پر منتقل ہو رہے ہیں جس سے ہمارے روائتی میڈیا کی مشکلات بھی بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا اس لئے ان اداروں کو پابند کرنے کی بات کی ہے کہ وہ یہاں اپنے دفاتر بڑھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے اقدامات سے عام صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس سے خواتین کی ہراسمنٹ، مذہبی منافرت، توہین مذہب ، قومی سلامتی اور اس جیسے دیگر مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اس حوالے سے ان گروپوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی جو چند روپے کی خاطر دوسروں کے خلاف ٹرینڈز چلاتے ہیں، انہوں نے کہا نقصان د ہ مواد کو ریگولیٹ کرنے کی بات کی گئی ہے اور اس سے عام صارفین کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔