سرعام پھانسی کی قرارداد کے بعد وزیراعظم کے ایک اور فیصلے کے مخالف وزیر بھی سامنے آگئے، بڑی خبرآگئی

17

وفاقی کابینہ نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دے دی ہے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان امور علی امین گنڈا پور سمیت کئی وزراءنے یوٹیلٹی اسٹورز پیکج کی مخالفت کی۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں کابینہ نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دی جس کے بعد یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹا، گھی، دالیں، چینی اور چاول مارکیٹ سے 10 سے 25 فیصد کم ریٹ پر ملیں گے۔وفاقی کابینہ نے 5 ماہ میں یوٹیلٹی اسٹورز کو 10 ارب روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دی، اس کے علاوہ ماہ رمضان میں یوٹیلٹی اسٹورز کو 5 ارب روپے الگ سے ملیں گے۔

جیو نیوز کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور وزیر برائے کشمیر، گلگت و بلتستان امور علی امین گنڈا پور سمیت کئی وزراءنے یوٹیلٹی اسٹورز پیکج کی مخالف کی۔یوٹیلٹی پیکج کی مخالفت کرنے والے وزراءکا موقف تھا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو اربوں روپے دینے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں عوامی ریلیف کے لیے بڑے فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیر اعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کو 5 ماہ کے لیے 2 ارب روپے ماہانہ سبسڈی کی منظوری دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے نجی شعبے کو چینی درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ دالوں پر امپورٹ ڈیوٹی کم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مستحق افراد کو راشن کارڈز رمضان سے پہلے ملیں گے، حکومت یوٹیلٹی ا سٹورز کے اشتراک سے 200 نوجوان اسٹور کھولیں گے جس سے 4 لاکھ افراد کو بالواسطہ اور 8 لاکھ افراد کو بلاواسطہ روزگار ملےگا۔ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مرحلہ وار کمی کے لیے رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

وفاقی کابینہ نے ہندو برادری کے لیے بھارت سے مورتیاں منگوانے، شفقت رانجھا کو چیئرمین ایکسپورٹ پراسیسنگ زون اتھارٹی جبکہ ڈاکٹر محسن نوید عباس کو ہیومن آرگن ٹرانس پلانٹ اتھارٹی کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی منظوری بھی دے دی۔کابینہ نے افغانستان کے لیے امریکی کارگو کی نقل و حمل سے متعلق ایم او یو میں توسیع کا معاملہ مو¿خر کردیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے مہنگائی کے ستائے عوام کی ریلیف کے لیے تقریباً 18 ارب روپے تک کا پیکج لانے کا فیصلہ کیا تھا جس کی منظوری کابینہ سے لی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے اور رواں سال کے پہلے مہینے میں مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد رہی جو کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت میں سب سے زیادہ ہے۔ادارہ شماریات پاکستان کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019 میں مہنگائی کی شرح 12.6 فیصد تھی جو جنوری 2020 میں بڑھ کر 14 اعشاریہ 6 فیصد ہو گئی جب کہ جنوری 2019 میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی۔

اس کے علاوہ میں ملک میں اِس وقت آٹے اور چینی کا بحران بھی موجود ہے اور اسی وجہ سے آٹے اور چینی کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں۔اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے 2 لوگ جہانگیرترین اور خسرو بختیار چینی بحران کے ذمہ دار ہیں لہٰذا ان کی ملوں کی تلاشی لی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے ملک میں جاری گندم اور چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے اور وہیں انہوں نے منگل کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں عوام کی ریلیف کے لیے اہم فیصلے کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ملک میں آٹے اور چینی کے بحران کا ذمہ ایک وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے اہم رہنما کو قرار دیا جاتا ہے۔ جہانگیر ترین حکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما ہیں جنہیں سپریم کورٹ نااہل قرار دے چکی ہے جبکہ خسرو بختیار وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک اور تحقیق ہیں۔گذشتہ ماہ سے آٹے کے بحران کے بعد ملک میں چینی کا بحران بھی سر اٹھانے لگا ہے جس کے باعث قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں چینی کی 83 سے 86 روپے فی کلو میں فروخت جاری ہے اورادارہ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک سال میں چینی 18 روپے فی کلو سے زائد مہنگی ہوچکی ہے۔گذشتہ دنوں وزارتِ صنعت و پیداوار نے چینی کی قلت پر قابو پانے کے لیے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی تجویز دی تھی جسے اقتصادی رابطہ کونسل نے مسترد کردیا ہے۔