Advertisement

کپتان حکومت کا ایک اور زبردست اقدام۔۔سرکاری دفاتر میں نماز کا وقفہ لازمی قرار

Advertisements

سرکاری دفاتر میں نماز کا وقفہ لازمی قرار، وزارت داخلہ نے نوٹیفیکشن جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا گیا ہے جسے عوام میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے سرکاری دفاتر میں نماز کا وقفہ لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزارت داخلہ نے نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے تمام محکموں کے سربراہان کو نماز ظہر کے لیے آدھے گھنٹے اور نماز جمعہ کے لیے سوا دو گھنٹے کے وقفہ کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔

وفاقی وزیرمذہبی امورنورالحق قادری نے وزارت داخلہ کو جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کردیا، انہوں نے وزارت داخلہ کوخط ارسال کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ میرے نام سے سوشل میڈیا پرکئی جعلی اکاؤنٹس ہیں،جہاں سے منفی خبریں پھیلائی جارہی ہیں،منفی خبریں حکومت کیلئے باعث شرمندگی ہیں، ایف آئی اے کاروائی کرے۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیرمذہبی امورنورالحق قادری نے جعلی اکاؤنٹس بنانے والوں کیخلاف کاروائی کیلئے وزارت داخلہ کوخط ارسال کردیا ہے۔خط کے متن میں کہا گیا کہ میرے نام سے سوشل میڈیا پرکئی جعلی اکاؤنٹس بنے ہوئے ہیں۔خبرپھیلائی گئی ہے کہ چاند دیکھنے کی مجاز اتھارٹی رویت ہلال کمیٹی سے محکمہ موسمیات کودی گئی۔وفاقی وزیرمذہبی امورنورالحق قادری نے کہا کہ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے منفی پروپیگنڈا ہورہا ہے، جوکہ حکومت کیلئے باعث شرمندگی ہے۔

ایف آئی اے سائبرکرائم کے مطابق ان جعلی اکاؤنٹس کے خلاف ایکشن لے۔ وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے ایف آئی اے کو جعلی اکاؤنٹس بلاک کرنے کی ہدایت کردی۔ واضح رہے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بیرون ملک تخلیق اور آپریٹ کیا جارہا ہے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے انتشار پھیلانے اور پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا خبریں بھی چلائی جاتی ہیں۔ حکومت گزشتہ سال بھی ملک کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے میں ملوث 2023 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا سُراغ لگایا اور ان اکاؤنٹس کو چلانے والوں کے حوالے سے کاروائی کا آغاز کیا تھا۔


ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ملک کے اہم اداروں ، اہم سیاسی و مذہبی شخصیات کے خلاف اور مختلف گروپوں کی طرف سے نفرت انگیز تقاریر کو نشر کیا جا رہا ہے ۔ ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی وجہ سے نہ صرف ملک کی بدنامی ہو رہی ہے بلکہ پاکستان کے اندر افراتفری ، صوبائی عصبیت اور مذہبی فسادات بھی پھیل رہے ہیں۔ ان میں سے کئی اکاؤنٹس کو بیرون ملک سے آپریٹ کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے اہم اداروں نے ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے نہ صرف تمام معلومات اکٹھی کر لی ہیں بلکہ یہ ثبوت بھی حاصل کر لئے کہ ان میں کتنے ایسے اکاؤنٹس ہیں جن کو بھارت، افغانستان، لندن، اسرائیل، سائوتھ افریقہ اور امریکہ سے آپریٹ کیا جاتا ہے جبکہ 240 ایسے اکاؤنٹس کے حوالے سے بھی معلومات اکٹھی کی گئی ہیں کہ جن کے ذریعے مذہبی فسادات برپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ملک کے تین بڑے شہروں سے ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو آپریٹ کیا جا رہا ہے ۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings