ہفتے میں دو مرتبہ سے زیادہ بیف کھانے والوں کو سائنسدانوں نے سخت وارننگ دے دی

7

عام تاثر ہے کہ سرخ گوشت کئی طرح کے طبی فوائد کا حامل ہوتا ہے لیکن اب امریکی سائنسدانوں نے اس تاثر کے برعکس اس کا ایک انتہائی سنگین نقصان بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے 30سال کی تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ سرخ گوشت کھانے والے افراد کو امراض قلب لاحق ہونے کا خطرہ دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ جو لوگ ہفتے میں 2بار سرخ گوشت کھاتے ہیں ان کو امراض قلب لاحق ہونے کا امکان7فیصد زیادہ ہوجاتا ہے۔ایسے لوگوں کی قبل از وقت موت ہونے کا خطرہ بھی 3فیصد بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی شکاگو سائنسدانوں نے 30ہزار لوگوں کی غذائی عادات کی 30سال تک نگرانی کی اور اس کے ان کی صحت پر اثرات کا جائزہ لیا۔ نتائج میں سائنسدانوں نے لگ بھگ ہر طرح کے گوشت کے کچھ نہ کچھ منفی پہلو بتائے۔ مچھلی کا گوشت صرف ایک ایسا گوشت تھا جسے نتائج میں سائنسدانوں نے مکمل محفوظ گوشت قرار دیا، مگر اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ لوگ مچھلی کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر نورینا ایلن کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ہر قسم کا سرخ گوشت دل کے امراض کے حوالے سے منفی اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم لوگوں کو ہدایت کریں گے کہ وہ اپنی خوراک میں سرخ گوشت کا استعمال کم سے کم کریں۔ سرخ گوشت کا استعمال کم کرنے سے نہ صرف آپ دل کی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ قبل از وقت موت کا امکان بھی کم کر سکتے ہیں۔“