کیا پاکستان صحیح سمت میں جارہاہے؟عالمی ادارے کی سروے رپورٹ نے حکمرانوں کی پریشانی بڑھا دی

13

پیرس کے ریسرچ ادارے اپسوس کے تازہ جاری سروے کے مطابق پاکستان کانیشنل انڈیکس خطے سمیت افریقہ اور مشرق وسطی کے ممالک سے بھی کم ہے،79فیصد پاکستانیوں کی رائے میں پاکستان صحیح سمت میں نہیں جارہاہے،ملک کے بڑے مسائل مہنگائی، بیروزگاری اور اضافی ٹیکسز ہیں،صرف دس فیصدعوام حکومت اوراپنی معاشی حالت سے مطمئن ہیں،صارفین کے اعتماد میں کمی آرہی ہے،اکثریت کواگلے چھ ماہ میں معیشت میں کوئی بہتری آنے کی امیدنہیں ہے۔ پیرس کے ریسرچ ادارے اپسوس کے پاکستان میں منیجنگ ڈائیریکٹر عبدالستار بابر نےیہاں ایک تقریب کے دورا ن تازہ سروے کے نتائج جاری کئے۔ عبدالستار بابر نے کہاکہ پیرس کے ریسرچ ادارے اپسوس نے رواں مالی سال جولائی سے دسمبر کے درمیان دیہی و شہری علاقوں میں 2900افراد سے جواب طلب کیے جن کا ماننا ہے

کہ ملک کو درپیش مسائل میں سےسب سےبڑے تین مسائل میں مہنگائی،بیروزگاری اور اضافی ٹیکسز ہیں۔79 فیصد افراد نے مقامی اور قومی معیشت کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا۔سروے کے شرکا ءکاکہناتھا کہ گزشتہ 12 ماہ میں انہیں بنیادی گھریلو اشیا خریدنے یاکاریاگھرجیسی بڑی خریداری کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔انہیں یہ بھی محسوس ہوا کہ مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی انکی صلاحیت اور موجودہ معاشی صورتحال میں اپنے روزگار بچانے کی صلاحیت کم ہوئی ہیں۔سروے میں 10 جواب دہندگان میں سے 4 کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی حیثیت پر ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے اپنا روزگار کھویا ہے۔نتائج میں بتایا گیا کہ 10 میں سے 9 صارفین عام گھریلو اشیا خریدنے سمیت گھر یا گاڑی وغیرہ خریدنے کے لیے کمزور ہیں جبکہ 10 میں سے ایک نے کہا کہ ان کی موجودہ معاشی صورتحال مضبوط ہے۔صارفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ملک کی اور ان کی موجودہ مالی صورتحال ‘خراب’ ہے انہیں آئندہ 6 ماہ میں صورتحال بہتر ہونے کی کوئی امید بھی نہیں جبکہ10میں سے ایک جواب دہندہ نےاپنے مستقبل بہتر ہونے کی امید ظاہر کی۔دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں سے مقابلے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا انڈیکس بھی کم تر رہا جو جواب دہندگان کا موجودہ اور مستقبل کے مالی صورتحال اور بڑی خریداریوں سمیت عام گھریلو اشیا کی خریداری میں اطمینان کے اظہار کی عکاسی کرتا ہے۔ اپسوس نے ملک کی سرمایہ کاری کے انڈیکس 19.1 بتایا جو بھارت کے 64.7،

جنوبی افریقہ کے 40.6، ترکی کے 27.5 اور برازیل کے 50.4 سے کہیں کم ہے۔ملک کا مجموعی قومی انڈیکس بھی اپسوس کی جانب سے سروے کیے گئے پاکستان کانیشنل انڈیکس32.8ہے جو کہ27ممالک میں سے کم تر ہے۔پاکستان کا انڈیکس 32.8ہے جبکہ عالمی جبکہ اس کو 48 کم ازکم ہوناچاہیے۔پاکستان کا نیشنل انڈیکس مشرق وسطی اور افریقہ سے بھی کم ہے۔پاکستانی صارفین کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی سامنا ہے جو گزشتہ 12 ماہ میں 10.16 فیصد سے بڑھی ہے چونکہ حکومت نے 6 ارب ڈالر کے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ بیل آٹ کے بعد یوٹیلیٹیز اور ایندھن کی قیمتیں بڑھادی ہیں۔سروے کی موجودہ صورتحال کی پیمائش اگست 2019 میں 19.5 تھی جو اب کم ہوکر 19.2 ہوگئی ہے۔یہ سروے صارفین کی مالی حالت، مقامی اور قومی معیشت کی حالت، عوام میں اطمینان پر کیا جاتا ہے۔آئندہ 5 برس میں ان کی زندگی کا معیار بہتر ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں 10 میں سے بیشتر نے مایوسی کا اظہار کیا جبکہ 3 کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ چند برس تک کوئی تفریحی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرسکتے اور مالی طور پر آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔90فیصد عوام اپنی مالی حالت اور مہنگائی سے پریشان ہیں

صرف17%لوگ اپنی نوکری سے مطمئن ہیں اور18فیصد کا خیال ہے کہ شادی اور بچوں پر خرچ کرنے کے لیے ان کے پاس پیسے ہیں 31%کے جاننے والے یا ان کی اپنی نوکری نہیں گئی ہے جبکہ69فیصد نے جواب دیاکہ وہ یا ان کے رشتہ داروں کی معاشی صورت حال کی وجہ سے نوکری گئی ہے۔ پاکستان کے موجودہ صورتحال سے24%لوگ مطمئن ہیں معاشی صورتحال سے 21%اپنے علاقوں کے معاشی صورتحال سے 18%مطمئن ہیں 21%لوگ کہے رہے ہیں کہ پاکستان صحیح سمت میں جارہاہے۔آخری بار اگست میں جب سروے کیاگیاتو اس وقت بھی یہی عدوشمار تھے جس سے ظاہر ہونا ہے کہ ملک صحیح سمت میں نہیں جارہاہے۔واضح رہے کہ پیرس کے ریسرچ ادارے اپسوس نے2011میں پاکستان میں کام شروع کیا جوکہ کمرشل بنیادوں پر سروے کرتی ہے۔