یوکرائنی طیارہ تباہ، ایران نے ذمہ داروں کے خلاف نہایت بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کر دیا

18

ایران نے یوکرائنی طیارہ گرائے جانے کی غلطی کا اعتراف کر لیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب ایرانی صدرخود میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ”یہ ناقابل معافی غلطی ہے جو بھی اس میں ملوث ہے انہیں سزا دی جائے گی ۔ ” سکائی نیوز “ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی کی ٹیلی ویژن پر تقریر نشر کی گئی جس میں ان کا کہناتھا کہ یہ ایک ناقابل معافی غلطی ہے اور جو بھی اس میں ملوث ہے انہیں سزا دی جائے گی ۔ٹیلی ویژن پر چلنے والے خطاب میں حسن روحانی کا کہناتھا کہ اس المناک حادثے کی تفصیلاً تحقیقات کی جائیں گی ، طیارہ گرانے کے عمل کا صرف ایک شخص ذمہ دار نہیں ہو سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج اپنی غلطی تسلیم کر رہی ہیں

جوکہ پہلااچھا اقدام ہے ،ہم لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ایسا کبھی دوبارہ نہیں ہو گا۔ ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے یوکرائنی طیارے کی تباہی کے معاملے پر ذمہ داروں کو گرفتار کیے جانے کا اعلان کر دیاہے تاہم اس کے علاوہ مزید کوئی اور تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔ یاد رہے کہ امریکہ نے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں قتل کر دیا تھا جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ حملہ کامیاب رہا جس میں 80 افراد مارے گئے ہیں تاہم اسی روز ایران کے دارلحکومت تہران کے خمینی ایئر پورٹ سے یوکرائنی طیارے نے پرواز بھری جو کہ چند منٹوں کے بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا جس کی وجہ ابتدائی طور پر فنی خرابی کو قرار دیا گیا تاہم بعد ازاں ایران نے میزائل سے نشانہ بنانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انسانی غلطی تھی ۔ ایران کے اعلان کے بعد ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا اور شہری سڑکوں پر نکل آئے جسے حکومت کی جانب سے قابو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ طیارے میں مجموعی طور پر 176 افراد سوار تھے جو کہ حادثے کے دوران مارے گئے ، ان میں سے 82 کا تعلق ایران سے تھا جبکہ 11 یوکرین کے شہری ، سویڈن کے 10 ، افغانستان کے چار ، اور جرمنی کے تین باشندے شامل تھے ۔مسافر طیارے میں کینیڈا کے 57 اور برطانیہ کے 3شہری بھی سوار تھے۔یوکرینی طیارہ تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیف جا رہا تھا۔ دوسری جانب ایران نے یوکرینی طیارے حادثے کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے مسافر طیارہ کو غلطی سے مار گرانے کا اعتراف کیا تھا۔