ایک بار حکم ملنے کی دیر ہے ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو واپس لے لیں گے

23

انڈیا کی بری فوج کے نئے سربراہ جنرل منوج موکند ناراوانے نے کہا ہے کہ ’اگر حکومت کی جانب سے انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر واپس لینے کے لیے کہا گیا تو فوج اس کے لیے کارروائی کرے گی۔‘انڈین آرمی چیف نے یہ بیان سنیچر کو دارالحکومت دہلی میں اپنی پہلی میڈیا کانفرنس میں دیا۔انڈین خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’پورے جموں و کشمیر کے خطے بشمول ’پاکستان کے زیر انتظام کشمیر‘ پر پارلیمان کا کہنا ہےکہ یہ سارا خطہ انڈیا کا ہے۔‘ انڈین آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’اگر پارلیمان کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنایا جائے اور اگر فوج کو اس کا حکم دیا جاتا ہے تو وہ مناسب کارروائی کرے گی۔‘ واضح رہے

کہ جنرل منوج موکند ناراوانے نے ایک انڈین ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ’اگر حکم ملا تو فوج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وسیع آپریشن کرنے کے لیے تیار ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ہماری فوج سرحد پر موجود ہے، ہمارے کئی منصوبے ہیں اگر اس کی ضرورت ہوئی تو ہم اس پر عمل درآمد کریں گے۔‘ واضح رہے کہ اس سے قبل انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ستمبر میں کہا تھا کہ ’پاکستان کے زیرانتظام کشمیر بھی انڈیا کا حصہ ہے‘ اور ’ایک دن ہمارا اس پر بھی اختیار ہوگا۔‘انہوں نے کہا تھا کہ ’فوج میں تعداد سے زیادہ معیار پر توجہ مرکوز کی جائے گی خواہ وہ سازو سامان خریدنے کا معاملہ ہو یا پھر فوج میں جوانوں کے تقرر کا معاملہ۔’فوج کو مستقبل کے لیے جوانوں کو تیار کرنا ہو گا اور یہ کہ پہلے کے مقابلے میں انڈین فوج بہتر طور پر تیار ہے۔‘ انڈین بری فوج کے سربراہ جنرل منوج موکند ناراوانے 28 ویں آرمی چیف ہیں۔ انہوں نے 31 دسمبر 2019 کو بپن راوت کی جگہ اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔