سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوان نسل کو فوج کی ٹریننگ کے لیے کیمپ لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا

158

 سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوان نسل کو فوج کی ٹریننگ کے لیے کیمپ لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ہارون الرشید کا پاک بھارت سرحدوں کی صورتحال پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ باڑ کاٹنے کا معاملہ بہت خطرناک ہے اس سے قبل یہ نہیں ہوا تھا۔اس کے علاوہ سیالکوٹ کے بارڈر پر ٹینک بھی پہنچا دئیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ بڑی بڑی توپیں بھی پہنچا دی ہیں۔فوجیوں کی تعداد بھی چھ لاکھسے 9لاکھ ہو گئی۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اجیت دول طاقت کے زور پر کشمیر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔وہاں ہر خاندان پر ایک فوجی تعینات ہے لیکن اس کے باوجود کشمیری نعرہ لگا رہے ہیں کہ پاکستان ہمارا ہے۔وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ بھارت پہلے سکردو پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن موسم سرما کے باعث وہ ممکن نہ ہو سکا۔اس لیے خطرہ تو ہر کہیں موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک زمانے میں فوجی ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا گیا تھا وہ دوبارہ سے شروع کرنا چاہئے۔قوم تقسیم ہے سیاسی معاملات میں الجھی ہوئی ہے۔فوجی ٹریننگ کے ذریعے قوم میں آگاہی پیدا کرنا چاہئیے۔اور اس پر پوری سنجیدگی سے غور شروع کر دیا گیا ہے۔سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوان نسل کو فوج کی ٹریننگ کے لیے کیمپ لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا جو کہ تین یا چھ ماہ کے لیے ہو گا۔اس طرح کا پروگرام امریکا میں بھی ہوتا ہے۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ اگر پاکستان میں یہ کام کر لیا جاتا ہے تو پھر پاکستان پر کوئی حملہ کرنے کا تصور بھی نہم کر سکتا۔واضح رہے کہ پاک بھارت سرح پر ایک بار پھر حالات خراب ہو رہے ہیں جب کہ پاکستان کی طرف سے بھارت پر واضح کر دیا گیا ہے کہ کس بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔