سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا کہنے والے اکثرسچ کے سوا سب کہہ جاتے ہیں،چیف جسٹس

11

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک اعلیٰ حکام کی بار بار پیشی مناسب نہیں ہے۔ چیف جسٹس بنتے ہی اولین ترجیح عدالت میں پیش ہونے والوں کا وقار بحال کرناتھا۔ہمیں یقینی بناناہے کہ عدالتیں عدالت کی طرح کام کریں۔سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا کہنے والے اکثرسچ کے سوا سب کہہ جاتے ہیں۔لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکیس کی نوعیت کچھ بھی ہوڈسپلن فورس کے پیش ہونیوالے کااحترام ضروری ہے۔چیف جسٹس نے عدالتوں میں اندراج مقدمہ کی درخواستوں کی تعدادبڑھنے پراظہارتشویش کرتے ہوئے کہااندراج مقدمہ کیلئے درخواستیں بڑھنے سے عدالتوں پرمقدمات کابوجھ بڑھ چکاہے۔انہوں نے کہاانصاف کی فوری فراہمی کیلئے ماڈل کورٹس بنائیں

جس سے حیرت انگیز نتائج نکلے۔کوشش کی کہ پولیس یاکسی بھی شخصیت کی عدالت میں پیشی پراس کا احترام ملحوظ خاطررکھاجائے۔انہوں نے کہا جب کوئی عوامی مسئلہ ہو تو سوموٹو کی توقع کی جاتی ہے تاہم حکام اپنا کام کررہے ہوں تو عدالتوں کو مداخلت کی ضرورت نہیں۔اعلیٰ حکام کی بار بار پیشی میرے نزدیک مناسب نہیں ۔اب کوئی واقعہ ہو تو حکام اور ادارے خود ہی متحرک ہوجاتے ہیں۔ادارہ پہلے ہی متحرک ہو تو عدالت کے نوٹس لینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ انہوں نے کہاپولیس اصلاحات کمیٹی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے قائم کی جبکہ ریٹائرڈپولیس افسران نے بھی پولیس اصلاحات کیلئے بہت کام کیا۔انہوں نے کہا ہمیں یقینی بنانا ہے کہ عدالتیں عدالتوں کی برح کام کریں۔ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔انہوں نے کہا اصلاحات اور عدلیہ اور پولیس کے تعان کے باعث ہائیکورٹس میں اپیلیں دائر ہونے میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا جھوٹی گواہی کے سدباب کیلئے سخت اقدامات کئے ہیں جھوٹے گواہوں کے خلاف مقدمات آگے بڑھائے ہیں۔ ایک جھوٹ سے پوری گواہی جھوٹی ہوجاتی ہے۔ اصل ملزم کے ساتھ اس کے گھروالوں اور رشتہ داروں کو بھی ملزم بنا دیا جاتا ہے لیکن اب یہ مزید نہیں ہوگا۔ مجسٹریٹ عدالتوں نے 27ہزار 400سے زائد مقدمات نمٹائے۔18اضلاع مٰیں قتل کے مکمل مقدمات نمٹا دیئے گئے ہیں۔گواہ لانا شکایت کرنے والے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تفتیشی کو پتہ ہوتا ہے کہ کونسا گواہ اصلی ہے اور کونسا جھوٹا۔سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا کہنے والے اکثرسچ کے سوا سب کہہ جاتے ہیں،اگر سچ کہنے کی ہمت نہیں ہے تو حق نہ مانگیں۔