Advertisement

27سال کی جدوجہد رنگ لے آئی پاکستان سے نکلنے والے ذخائر سونے سے بھی قیمتی بن گئے

Advertisements

27 سال کے بعد تھر کی زمین سے ملنے والا کوئلہ سونا بن گیا ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھرپارکر میں تھر کول پراجیکٹ کے چھ سو ساٹھ میگاواٹ کے پاور پلانٹس کا افتتاح کردیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت قائم ہونے والے پاور پلانٹ سے پیدا ہونے والی بجلی رواں سال جون کے آخر تک نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی۔

تھرپارکر میں تھرکول پاور پراجیکٹ کے افتتاح کے لیے بلاول بھٹو تھر کول فیلڈ میں نئی سینگیڑی گاؤں پہنچے جہاں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سندھ کابینہ کے اراکین، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور چیف سیکریٹری سندھ نے ان کا استقبال کیا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری تھر کے دورے کے دوران کول مائن اور تھر کول بلاک 2 بھی گئے اور اوپن پٹ مائن کا معائنہ کیا جہاں انہیں کوئلے کی کوالٹی، اس کی کان کنی کے حوالے سے بریف کیا گیا۔

لاول بھٹو نے اوپن پٹ مائن کے معائنے کے ساتھ ساتھ کان کا دورہ کیا اور کان کنوں سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو نےاپنے موبائل سے کان اور کان کنوں کی تصاویر بھی بنائیں۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں نے ابھی بھی تھرکول پاور پلانٹ کا افتتاح کیا۔

یہ پاکستان میں انسانی ہاتھوں سے بنا سب سے اونچا اسٹرکچر ہے۔

خیال رہے کہ سندھ کے ضلع تھرپارکر میں دور دور تک ریت کے ٹیلے ہیں ،اس علاقہ میں آگ برساتا سورج تو ہے لیکن پینے کا پانی ناپید ہے ۔ اس سب کے باوجود قدرت نے اس علاقے کو کوئلے کی نعمت سے مالا مال کیا۔ جو اب پورے پاکستان کو روشن کرے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر کو 13 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

98 مربع کلو میٹر کا رقبہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے پاس ہے جس میں1.57 بلین ٹن کوئلہ موجود ہے جس کے ذریعے آئندہ پچاس برس تک 5 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی۔ تھر کوئلے سے حا صل ہو نے والی بجلی کے نرخ ابتدا میں 17.4 جو 8 سال کے اندر کم ہو کر08.2 روپے فی یونٹ رہ جائیں گے۔ واضح رہے کہ قبل ازیں صوبہ سندھ کے علاقہ تھر میں موجود کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ سے پہلی مرتبہ بجلی کی پیداوار کا آغاز کیا گیا تھا۔ جس کے بعد 19 مارچ کو تھر میں موجود پاور پلانٹ نے 330 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کا آغاز کیا تھا جسے نیشنل گرڈ میں شامل کردیا گیا تھا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings