Advertisement

’2019ء پاکستان اور ترکی کا سال ہو گا‘۔۔ ترک صدر کی وزیراعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعریف

Advertisements

ترک صدرطیب اردوان نے ترک فاؤنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ترک تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہورہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ ہویا خطے میں امن کا قیام ہو، 2019ء پاکستان اور ترکی کا سال ہوگا، ترک فاؤنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ ترک صدرطیب اردوان نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔


عمران خان کوالیکشن میں کامیابی پر پھر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔عمران خان کی طرح میں بھی فٹ بال کا کھلاڑی رہا ہوں۔عمران خان خود کھلاڑی رہ چکے ہیں۔ عمران خان اب بھی کپتان ہیں۔ میں بھی فٹ بال کا کپتان تھا۔ ہمیں خوشی ہے کہ عمران خان نے ترکی کا دورہ کیا۔ ترک صدر نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان میں تبدیلی کیلئے بڑی جدوجہد کی ہے۔امید ہے کہ عمران خان کرکٹ کی طرح سیاست میں کامیاب ہوں گے،عمران خان نے بطور کھلاڑی دنیا بھر میں نام پیدا کیا۔

اب سیاست میں بھی اپنی ٹیم کی قیادت کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک ترک تعلقات میں گرم جوشی پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ سیاسی ، عسکری، تجارتی اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہورہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستی کل، آج اور مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی۔ ترک صدر نے کہا کہ ترک فاؤنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہویا خطے میں امن کا قیام ہو،2019ء پاکستان اور ترکی کا سال ہوگا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لوگوں نے ترکی تحریک میں کرداراداکیا۔پاکستان اور ترکی کے درمیان نسلوں کارشتہ ہے۔ پاک ترک تعلقات کو وسیع ترکرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کوریاست مدینہ کی طرز پر بنانے کا خواہشمند ہوں۔


پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ترکی کے ساتھ تمام شعبوں خصوصاً معیشت میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ترکی سے 50لاکھ گھروں کی تعمیر میں بھی ترک کمپنیز کا تعاون چاہتے ہیں۔ پانچ سالوں میں پانچ ملین گھر تعمیر کیے جائیں گے۔صحت کے شعبے میں بھی ترکی کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی اداروں نے دہشتگردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردی بہت حد تک کم ہوچکی ہے۔افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں۔افغانستان ، پاکستان اور ترکی کا مشرکہ اجلاس استنبول میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں بھی تعاون کررہا ہے۔ خواہش ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرافغانستان اور خطے میں امن کیلئے کام کریں۔انہوں نے کہا کہ ترک صدرسے شام کے مسئلے کے حل پر بھی بات ہوئی ہے۔


خواہش ہے شام کے مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی۔ خطے میں امن کیلئے بھارت کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں۔پاکستان اور بھارت کا بنیادی تنازع مسئلہ کشمیر ہے۔ ترک صدر سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر بھی بات ہوئی ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان صدارتی محل پہنچ گئے، عمران خان کا صدارتی محل پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا، وزیراعظم کو ترک صدارتی محل میں گارڈآف آنرزبھی پیش کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے صدارتی محل میں ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات کی۔ جس میں دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی، مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ سمیت علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم جب صدارتی محل میں پہنچے توان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم کو صدارتی محل میں گارڈآف آنرزبھی پیش کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان نے اکٹھے نماز جمعہ ادا کی، دونوں سربراہان نمازجمعہ کی ادائیگی کیلئے ایک ساتھ مسجد پہنچے ۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings