” میں نے جان اللہ کو دینی ہے “ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا وہ بیان جسے سن کر انہیں خود بھی شرم آجائے گی

51

انسدا دہشتگردی کی عدالت نے ساہیوال کے تمام ملزمان کو عدم شواہد کی بنیاد پر بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کر دیاہے جس کے بعد سانحہ ساہیوال کا ہیش ٹیگ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہا اور ماضی میں دیئے گئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے ایک بیان کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس میں وہ وعدہ کرنے کے بعد بھول گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال کے بعد اس میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیاتھا اور اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ” پرائم منسٹر اور اس حکومت کا وعدہ ہے ، چاہے جو بھی شخص ہو ، ابھی سی ٹی ڈی اہلکار معطل ہوئے ہیں اور سلاخوں کے پیچھے گئے ہیں ، میں نے جان اللہ کو دینی ہے ، آج میں اس ایوان میں کہوں گا ،

چاہے مجھے اس عہدے استعفیٰ کیوں ہی نہ دینا پڑے ، میں آن ریکارڈ کہہ رہاہوں ہم ان کی مثال قائم کریں گے ۔“ واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ ساہیوال کے تمام ملزمان کو عدم شواہد کی بناءپر بے گنا ہ قرار دے کر بری کردیا ہے جس کے بعد مقتول خلیل کے بھائی کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے ملکی نظام انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ عدالتی فیصلے پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے متاثر ہ شخص کے بھائی اور مقدمے کے مدعی محمد جلیل نے کہا کہ ”میرا نام جلیل ہے ،میں سانحہ ساہیوال کا مدعی ہوں ، عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں ، تمام پاکستانی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم اپنے اداروں پرا عتماد کرتے ہیں اور فیصلے کو دل سے تسلیم کرتے ہیں ، اس پر سیاست نہ کی جائے، اور کوئی بھی رنگ نہ دیا جائے ۔“ جیونیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“میں گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کے معاملے میں انصاف نہیں ہوا اور خلیل کے بھائی جلیل کی باتوں سے لگتاہے کہ اس نے پیسے لے کر یا دباو کے تحت صلح کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں فیصلہ قانون شہادت پر ہوتا ہے اور ہماری عدالتوں کا نظام مفلوج ہے ، یہاں پر غریب انصاف نہیں لے سکتا، صر ف امیر آدمی انصاف لے سکتا ہے۔

https://web.facebook.com/2104740186423490/videos/798700600559177/