Advertisement

’’ ہم نے شام کے ماحول میں برکت رکھی ہے ‘‘ سر زمین شام کے متعلق اللہ تعالی نے کیا فرمایا ؟

Advertisements

معروف اینکر پرسن نے شام کی سرزمین پر جاری جنگ و فساد کے حوالے سے اہم انکشافات کر دیئے ہیں۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ بلاد شام جس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ” ہم نے اس کے ماحول میں برکت رکھی ” اس کے علاوہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ ” جب تم خود کو آخری بڑی جنگ کے دوران اپنے آپ کو کہی پاؤ تو شام چلے جانا کیونکہ وہاں غوطہ ایک شہر ہے جہاں مسلمانوں کا ہیڈ کواٹر ہوگا ، بارہیوں امام المنتظر امام مہدی علیہ السلام وہاں پر موجود ہونگے اور آخری جنگ لری جائے گی ” ۔ انکا کہنا تھا کہ شام آج کل تباہ برباد ہے، اس ملک کی کل آبادی 2 کروڑ 25 لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن اس میں سے بھی 12 لاکھ لوگ مارے جا چکے ہیں ۔10 لاکھ لوگ ایسے ہیں جنکا کوئی علم نہیں، کچھ بشارت الاسد کی جیلوں میں قید ہیں ،

اور کچھ مسنگ پرسنز کے نام پر غائب ہیں۔ ایک کروڑ کے قریب لوگ شام سے ہجرت کر چکے ہیں جن میں سے 40 لاکھ لوگ ترکی میں ہیں۔ 10 لاکھ کے قریب لوگ اردن میں ہیں جبکہ 20 لاکھ کے قریب لوگ یورپ میں ہیں۔ اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ ہجرت کرنے والے شامیوں کو میں نے پیرس کے اندر میٹرو کے اسٹیشنوں کے پاس اور بڑے بڑے ؎پلوں کے نیچے ان شامی لوگوں کو سردی کے اندر رلتے دیکھا ہے۔ 15 مارچ 2011 میں شام کے علاقے درہ جو دمشق کے ساتھ ہے وہاں ایک وال چاکنگ کی گئی۔ جس میں یہ نعرہ لگایا گیا کہ اے بشارالاسد اب تمہاری باری ہے۔ اس وقت معمر قذافی اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔ اوریا مقبول کا کہنا تھا کہ میں ان دنوں لبنان کے شہر بیروت میں تھا۔ صرف چھ ماہ کے عرصے کے دوران سیرین آرمی کے لوگوں نے اپنی آرمی بنا لی اس کی وجہ یہ تھی کہ بشارالاسد علوی اقلیت کے ساتھ تعلق رکھتا تھا ۔ اس آرمی نے شام کے مختلف علاقوں میں شم کی فوج کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا۔ جیسے ہی باغیوں نے مزاحمت کا آغاز کیا تو دو طاقتتوں نے فوری طور پر شام کا رک کیا ایک حزب اللہ اور دورا ایران نے اپنے پاسدران اسلام کو شام میں اتار دیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے بشارالاسد نے بھی اپنی آرمی کو میدان میں اتار دیئے۔ اس کے بعد دنیا بھر میں شام مین لڑھنے کے لیے بھرتیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ افغانستان میں ’’ فاطمیون‘‘ اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے ’’ زینبیون‘‘ نامی تنظیمیوں نے لوگ بھرتی کیے جنکی ایران میں ٹرینینگ کی گئی اور اس کے بعد جنگ کے لڑنے کے لیے انہیں شام بھیجا گیا۔ جس کے بعد سعودی عرب اور قطر کے لوگ اس جنگ مین شامل ہوئے،

جیش الاسلام کو سعودی عرب نے سپورٹ کرنا شروع کیا۔ فلیکتہ الرحمٰن وہ فوج تھی جسے قطر نے سپورٹ کرنا شروع کر دیا ۔ عراق کے اندر سنی ٹرائینگ کے لوگوں کو طالبان کے نام پر قتل و غارت کے اتنے واقعات بڑھ چکے تھے کہ وہاں سے ایک نئی قوت جسے دولت اسلامیہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس نے جنم لیا جو بعد میں داعش کے نام سے مشہور ہوئی انہوں نے رقہ کی جانب رخ کیا اور 2013 میں وہاں پر سب سے بڑے تیل کے کنویں پر قبضہ کرتے ہوئے داعش نے باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس پوری بربریت اور کرائسز کا نتیجہ یہ ہے کہ آج شام سے لوگ ہجرت کرتے کرتے پتہ نہیں کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں ۔

Advertisement

Source dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings