Advertisement

گرفتاری کے بعد حمزہ شہباز کو ایک اور جھٹکا ،جانتے ہیں کتنےروز کیلئے جسمانی ریمانڈپر نیب کے حوالے کردیا گیا ؟

Advertisements

احتساب عدالت میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے مسلم لیگ(ن)کے نائب صدر حمزہ شہباز کو ریمانڈ کے حصول کے لیے احتساب عدالت میں پیش کر دیا۔لاہور کی احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی۔نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر وارٹ علی جنجوعہ حمزہ شہباز کے 15 روزہ

جسمانی ریمانڈ کے لیے دلائل دئیے۔حمزہ شہباز کی جانب سے ان کے وکیل امجد پرویز اور سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے ہیں. احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔عدالت نے حمزہ شہباز کا 26 جون تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کو 26 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔نیب کی جانب سے حمزہ شہباز پر الزام عائد کیا گیاہے کہ 2015 میں 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کے نام پر رمضان شوگر ملز کیلئے نالہ تعمیر کیا گیا۔نیب رپورٹ کے مطابق حکومتی محکموں نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی خوشنودی کیلئے مقامی آبادیوں کے فنڈز رمضان شوگر ملز کیلئے استعمال کیے۔قانون عوامی نمائندوں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، تجاوز کی نہیں۔نیب کی طرف سے کہا گیاہے کہ حمزہ شہباز نے 12 کمپنیز کرپشن سے بنائیں، جعلی اکائونٹس کا جال بنا،حمزہ شہباز نے 2 ارب کرپشن سے حاصل کیے اور اسی رقم سے اپنی کمپنیز بنائیں۔حمزہ شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر پولیس کی اضافی نفری احتساب عدالت لاہور کے باہر تعینات کی گئی ہے۔احتساب عدالت میں پولیس نے وکلا اور میڈیا کو جانے سے روک دیا ہے ۔ وکلا نے پولیس اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔

اسی دھکم پیل کے دوران احتساب عدالت کی دیوار پر لگی سیمنٹ کی جالیوں کا ایک حصہ نیچے گر پڑا تاہم اس حادثے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔۔ واضح رہے کہ حمزہ شہباز کی ضمانت 11 جون کو ختم ہوگئی تھی۔جس میں توسیع کے لیے انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا، تاہم عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ضمانت میں توسیع کا معاملہ احتساب عدالت دیکھے گی جس پر لیگی رہنما نے اپنی درخواست واپس لے لی اور انہیں گرفتار کرلیا گیا. واضح رہے کہ 5 اپریل 2019 کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی ٹیم نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹان میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا، تاہم وہ انہیں گرفتار نہیں کرسکی تھی. اس واقعے کے اگلے روز 6 اپریل کو ایک مرتبہ پھر نیب کی ٹیم مذکورہ کیسز میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ماڈل ٹان کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی اور گھر کا محاصرہ کرلیا تھا لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر نیب کو ان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings