Advertisement

کیا آپ جانتے ہیں کہ حجرہ رسو لﷺ میں کس عورت کا جہیز اما نت کے طور پر پڑا ہے ؟ نام جان کر آپ بھی آبدیدہ ہو جائیں گے

Advertisements

سعودی عرب کے ایک سابق اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے دور میں حجرہ رسول ؐ میں اپنے داخلے کا واقعہ بیان کیا ہے ۔شیخ عائض بن عمر الرویس بیان کرتے ہیں کہ مملکت کے سابق فرمانروا شاہ فیصل نے ایک دفعہ حجرہ نبوی کے اندر کی زیادرت کی تو انہیں وہاں لوہے کہ چند صندوق نظر آئےجن کے بارے میں شاید کسی کو علم نہیں تھا کہ ان کے اندر کیا ہے جب شاہ فیصل نے ان صندوقوں کے بارے میں پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ ترکوں کے زمانے سے یہاں رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کے اندر کیا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں اس پر شاہ فیصل نے حکم دیا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان صندوقوں سمیت حجرہ نبویؐ کے اندر موجود اشیاء کی فہرست تیار کرے ۔ اس کمیٹی میں سعودی عرب کے وزارت اوقاف ، مالیات اور نگرانی کے محکموں کے افسران کو شامل کیا شیخ الرویس بتاتے ہیں کہ میں وزارت مالیات کی طرف سے اس کمیٹی کا نمائندہ تھا ۔ طے پایا کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد حجرہ نبویؐ کا دورہ کریں گے کیونکہ عشاء کی نماز کے کچھ دیر کے بعد مسجد نبویؐ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں مقررہ وقت پر ہم حجرہ رسول ؐ میں داخل ہوئے اور تمام سامان کا جائزہ لینا شروع کیا پہلے صندوق کا معائنہ کیا گیا تو اس میں سونے کی چھوٹی اینٹیں اور زیورات پائے گئے ۔ دوسرے صندوق میں چاندی کی زنجیریں ملیں جو حرم مکی میں اور خانہ کعبہ پر لٹکائی جاتی تھیں ۔ اس کے علاوہ حضرت محمد ؐ سے منسوب بعض خطوط بھی حجرہ کے اس سامان میں شامل تھے شیخ الرویس کے مطابق حجرے کی اشیاء کا معائنہ اور ان کی فہرستوں کی تیاری کا کام 15 روز جاری رہا ۔

اس سامان میں خاص طور پر سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبدالمجید کی بیٹی کے زیورات کی موجودگی تھی جو انہوں نے مدینہ منورہ کے ایک دورے کے دوران مدینہ منورہ کی خواتین کی شادی کے لیے وقف کے طور پر رکھوائے تھے اس کمیٹی نے جو رپورٹ مرتب کی اس میں ان زیورات کو مدینے کے میوزیم میں محفوظ کیے جانے کی ہدایت کی گئی جبکہ دیگر زیورات کو وزارت مالیات اور مالیاتی ادارے کے حوالے کرنے کا مشورہ دیا گیا تاکہ انکے لوٹے جانے یا چرا لیے جانے کا خطرہ نہ ہو۔

Advertisement

Source dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings