Advertisement

کوفہ شہر

Advertisements

کوفہ شہر میں ایک عورت رہتی تھی جس کے شوہر کو سخت معاشی پریشانی تھی تنگدستی کے حالات چل رہے تھے بیوی کہنے لگی بہتر تو یہ ہوتا کہ تم گھر سے نکل کر شہروں میں جاتے اور اللہ کی راہ میں اپنا رزق روزی تلاش کرتے یہ سن کر شوہر گھر سے نکلا اور گھومتا پھرتا ملک شام پہنچ گیا۔اور خوب محنت کی اور تین سو درہم کما لیئے جس سے اُس نے ایک بڑی اچھی نسل کی اونٹنی خریدی مگر کام کے وقت سخت اڑیل نکلی جس نے اُس آدمیکو پریشان کر دیا

اُس نے غصے مین آکر قسم اُٹھا لی کہ کوفہ جاکر اس کو ایک درہم میں بیچ دوں گا بعد میں بڑا پریشان ہوا جا کر بیوی کو ساری بات باتئی بیوی نے ایک بلی کو پکڑا اور اونٹنی کے گلے میں باندھ دیا اور کہا بازار جائو اور یہ آواز لگائو تین سو درہم کی اور اونٹنی ایک درہم کی لیکن دونوں ساتھ ہی فروخت ہوں گی۔شوہر نے ایسا ہی کیا ایک دیہاتی اونٹنی کو گھوم پھر کر دیکھ رہا تھا اور کہ رہا تھا کیسی اچھی اونٹنی ہے کتنی خوبصورت ہے کاش تیرے گلے میں یہ بلی نہ ہوتی اب اس سمیت ہی تجھے خریدنا پڑے گا بیوی کی زہانت سے قسم بھی پوری ہو گی اور اقنٹنی بھی اصل قمیت پر بک گئی آج ہم آپ کےلئےایک ایسا خاص وظیفہ لے کرآئے ہیں۔ایک بہت ہی مجرب وظیفہ لے کرآئے ہیں جوان لوگوں کےلئے ہے جوقرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اورجن کواس کی سخت ظرورت ہےآج آپ کوایک ایساوظیفہ بتائیں گے جس کوکرنے سے انشاءاللہ آپ کا قرض اداہوجائےگا یہ ظیفہ مجرب بھی ہے اوربہت آسان بھی ہےاس وظیفہ کو جاننے کے لئےآپ کوآخرتک پڑھنا ہو گا۔ جب ہم کسی سے قرض لیتے ہیں قرض لینے والے سے وہم وعدہ کرتے ہیں کہ اتنیدیرتک ہم قرض لٹا دیں گےتوآپ کوشش کیا کریں کہ جومدت مقررکی ہوتی ہے اس کے دورانیے کے اندراندرآپ اس قرض کولٹا دیں۔ لیکن قرض دینےکی جب باری ہوتی ہےتوقرض ہم سے لیٹ ہوجاتا ہے جس کی بدولت کافی پریشانیاں وجود میں آتی ہیں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات لڑائی جگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ جوقرض دینے والا ہوتا ہے

اسے بھی چاہیے کہ صبر تحمل سے کام لے کیونکہ آپ جب کیسی کو قرض دیتے ہیں توآپ کو پتا ہونا چاہیے کہ اس سے آپ کو صرف دنیاوی فائدہ نہیں ہے ہوتا اس سے ایک دوسرے کہ دل میں اعتباربڑھے گا اوراس کے ساتھ ساتھ جب آپ قرض ادا کریں گے جب تک مقروض کے پاس رہے گا اتنے ہی دن آپ کو اس قرض کے برابر ثواب ملتا رہے گا یعنی کہ جب آپ کسی کو قرض دیتے ہیں اور جب تک وہ لینے والا قرض آپ کو قرض ادا نہیں ہے کرتا تب تک آپ کے نامہ اعمال میں ثواب لکھ دیا جاتا ہے اس لئے آپ بھی صبرسے کام لیا کریں جب ہم کسی سے قرض لیتے ہیں اورمرنے سے پہلے اس کو ادا نہ کیا جائے تو یہ ایک بہت برا بوجھ ہوجاتا ہے جس کا ہم کو آخرت میں حساب دینا پرے گا اس لئے بہتر ہے کہ آپ ایسے کام ہی نہ کروکے آپ کو قرض لینے کی ظرورت پرے اوراگر کسی سے قرض لیتے بھی ہیں تواس کووقت پرادا کردیا کریں۔اب ہم چلتے ہیں آج کے وظیفے کی طرف ناظرین آپ سے گزارش ہے کہ اس وظیفہ کو دھیان سے پڑھ لیں تاکہ آپ کو بعد میں کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پرے آپ کو سب کچھ پڑھنے سے ہی سمجھ آجائے۔ناظرین آپ نے کرنا کچھ اس طرح سے ہے کہ نمازعشا کے بعد آ نے قبلہ روح ہوکر بیٹھ جانا ہے اور 11 مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ لینا ہے اور یہ درود وہی ہے جو نمازمیں بھی پڑھاجاتا ہے 11باردرود ابراہیمی پڑھنے کے بعد آپ نے سورہ نصریہ آپ کو پارہ نمبر تیس میں ملے گی اس کو آپ نے پڑھ لینا ہے

آپ نے اس سورہ کو پڑھنا ہے 41 مرتبہ آپ نے عشا کی ہی نماز کے بعد پڑھنا ہے اور جب آپ یہ وظیفہ کریں تواس کوآپ نے 41 دن کی نیت سے آپ نے یہ عمل شروع کرنا ہے عشا کی نماز کے بعد 41 مرتبہ یہ سورہ پڑھنی ہے اوراول آخر 11 مرتبہ درود ابراہیمی پڑھ لینا ہے توانشاء اللہ جب آپ یہ وظیفہ کریں گے اس عمل کی برقتسے آپ کے سر پے جتنا بھی قرض ہو گا انشاء اللہ اس عمل سے ادا ہو جائے گا تو ناظرین یہ آج کا وظیفہ تھا جوآپ کو بتانا تھا اس وظیفے کی ہرکسی کو اجازت ہے کسی سے اجازت لینے کی نہی ہے ظرورت کوئی بھی یہ وظیفہ کرسکتا ہے۔ خواتین جو کہ اس عمل کو 41 دن تک مسلسل نہیں ہے کرسکتی توآپ جودن آپ کے رہ جائیں آپ ان کو بعد میں پورا کرلیں لیکن آپ نے یہ عمل 41 دن تک کرنا ہے۔ اورانشاء اللہ اس عمل کی برقت سے آپ کے اوپرجتنا بھی قرض ہوگا اللہ پاک ادا کرنے میں آپ کی غیبی مدد فرمائیں گے

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings