لاہور ہائیکورٹ نے عید الفطر پر پارکس اور تفریح گاہیں کھولنے کی درخواست مسترد کردی جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کہا ہے کورونا کامعاملہ پہلے ہی سنگین صورتحال اختیار کرچکا ہے، پارکوں کو کھولنے کی اجازت کیسے دیں؟۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے تفریحی پارکس کی بندش سے متعلق درخواست پرسماعت کی ۔چیف جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کیاآپ مجھ سے بچوں کے مارنے کالائسنس لینا چاہیے ، کوروناکامعاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔عدالت نے کہا کوروناکامعاملہ پہلے ہی سنگین صورتحال اختیارکرچکا ہے، پارکوں کوکھولنے کی اجازت

کیسے دیں؟ بعد ازاں عدالت نے عید الفطر پر پارکس اور تفریح گاہیں کھولنے کی درخواست مسترد کردی۔یاد رہے نجی تفریحی پارکوں کی تنظیم کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں چیف سیکرٹری کے ذریعے پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا تھا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تفریحی پارک کرونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے تین ماہ سے بند ہیں، اب تقریباً تمام کاروبار حکومتی ایس او پیز کے تحت کھل چکے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے تفریحی پارکس کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔درخواست میں کہا گیا ملازمین کو تین ماہ سے بغیر آمدن کے تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا ہے، پارکس کی بندش سے پارکس مالکان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں ۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت تفریحی پارکس کے کرائے ختم کرنے اور ملازمین کو بیروزگاری سے بچانے کا حکم دے۔