Advertisement

کرپشن کی نئی تاریخ رقم ۔۔ نیب کا کمانڈو ایکشن ۔۔ سابق سرکاری شخصیت کے گھر سے قارون کا خزانہ برآمد

Advertisements

کرپشن کی نئی تاریخ رقم ۔۔ نیب کا کمانڈو ایکشن ۔۔ سابق سرکاری شخصیت کے گھر سے قارون کا خزانہ برآمد ۔۔نیب نے کاروائی کرتے ہوئے سابق سرکاری افسر کے گھر سے 33 کروڑ روپے برآمد کر لئیے۔تفصیلات کے مطابق نیب نے مبینہ اطلاع پر لاہور کی نجی ہاوسنگ سوسائٹی ای ایم ای میں کاروائی کرتےہوئے سابق سرکاری افسر کے گھر پر چھاپہ مارا۔نیب کی جانب سے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے سابق سرکاری افسر کے گھر سے 33 کروڑ روپے برآمد کر لئیے گئے۔

نیب نے کسی بھی قسم کے رسک سے بچنے کے لیے مذکورہ سرکاری افسر کی شناخت صیغہ راز میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ برآمد ہونے والی اشیا میں 10 کروڑ روپے نقد جبکہ 17 کروڑ روپے مالیت کے پرائز بانڈ برآمد ہوئے ہیں ،اس کے علاوہ مذکورہ سرکاری افسر کے گھر سے ساڑھے تین کروڑ مالیت کی غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہو ئی ہے۔نیب حکام نے تمام چیزوں کو قبضے میں لے لیا ہے اور دوسری جانب اس شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص گریڈ 16 کا سابق سرکاری افسر ہے جبکہ اس سے مزید شواہد ملنے کا بھی امکان ہے۔نیب اس شخص سے مزید تفتیش کرے گا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ یہ رقم اس شخص کے پاس کہاں سے آئی اور کیا یہ رقم اس کی اپنی ملکیت ہے یا اس کے پس پردہ کوئی گروہ موجود ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کا کہناہے کہ چین نے پاکستانی حکومت کو امداد کا اعلان کرنے سے روک دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کی تاریخی مدد کی ہے، چین کتنی مدد دے رہا ہے ظاہر نہیں کر سکتے، دراصل چین نے پاکستان کو نقد مالی مدد کا اعلان کرنے سے روک دیا ہے، کیونکہ اس سے چین کے یدگر پارٹنرز تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت میں آ کر حیران کن گھپلوں کا معلوم ہوا، اور میڈیا رپورٹس میں آنے والی کرپشن کم لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پر آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے، ابھی بڑی مچھلیاں باقی ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے دیئے گئے دھرنے اور مظاہروں کو مصالحتی انداز میں ہی حل کر سکتے تھے، دھرنے میں پیسے دے کر لوگوں کو لایا گیا اور اگر دھرنا ختم نہ ہوتا تو حکومتیں ختم ہو سکتی تھیں۔عمران خان نے اراکین کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں منظم ہو کر چلیں، اپوزیشن کی ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، کوئی بھی رکن قومی اسمبلی وزیر دفاع پرویز خٹک کی اجازت کے بغیر ایوان میں تقریر نہیں کرے گا۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھاکہ دو ماہ تک ایوان میں نہیں آ سکتا چیلنجز کا سامنا ہے لیکن دو ماہ بعد ایوان میں تواتر سے آیا کروں گا۔

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings