Advertisement

ڈیم کے نام پر واردات ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے، شوکت خانم ہسپتال بھی میرے اور عوام کے پیسے سے بنا ہے

Advertisements

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ تبدیلی اور انقلاب کی باتیں کرنے والے حکومت میں آکر بھیک مانگ رہے ہیں، ڈیم کے نام پر واردات ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے، پی ٹی آئی والے سوچتے بعد میں اور بولتے پہلے ہیں۔منگل کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر 120 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، کوئی ڈیم کے نام پر واردات ڈالنے کی کوشش نہ کرے اور ایسا تاثر نہ دیں کہ کوئی نیا ڈیم

بنا رہے ہیں،لوگوںکو بیوقوف نہ بنایا جائے نہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے کتنے ڈیم اور کتنی یونیورسٹیاں بنائیں؟ ۔شوکت خانم بھی میرے اور عوام کے پیسے سے بنا ہے، شوکت خانم کے نام پر بیوقوف بنانے والے اس کے بورڈ سے تنخواہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے سوچتے بعد میں ہیں اور بولتے پہلے ہیں، کبھی بسکٹ انقلاب آرہا ہے اور کبھی سموسہ انقلاب آتا ہے، اب نعرے سن سن کرلوگوں کے کان پک گئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ تبدیلی اور انقلاب کی باتیں کرنے والے حکومت میں آکر بھیک مانگ رہے ہیں، ڈیم کے نام پر واردات ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے، پی ٹی آئی والے سوچتے بعد میں اور بولتے پہلے ہیں۔منگل کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر 120 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، کوئی ڈیم کے نام پر واردات ڈالنے کی کوشش نہ کرے اور ایسا تاثر نہ دیں کہ کوئی نیا ڈیم بنا رہے ہیں،لوگوںکو بیوقوف نہ بنایا جائے نہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے کتنے ڈیم اور کتنی یونیورسٹیاں بنائیں؟ ۔شوکت خانم بھی میرے اور عوام کے پیسے سے بنا ہے، شوکت خانم کے نام پر بیوقوف بنانے والے اس کے بورڈ سے تنخواہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے سوچتے بعد میں ہیں اور بولتے پہلے ہیں، کبھی بسکٹ انقلاب آرہا ہے اور کبھی سموسہ انقلاب آتا ہے، اب نعرے سن سن کرلوگوں کے کان پک گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ تبدیلی اور انقلاب کی باتیں کرنے والے حکومت میں آکر بھیک مانگ رہے ہیں،

ڈیم کے نام پر واردات ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے، پی ٹی آئی والے سوچتے بعد میں اور بولتے پہلے ہیں۔منگل کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر 120 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، کوئی ڈیم کے نام پر واردات ڈالنے کی کوشش نہ کرے اور ایسا تاثر نہ دیں کہ کوئی نیا ڈیم بنا رہے ہیں،لوگوںکو بیوقوف نہ بنایا جائے نہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے کتنے ڈیم اور کتنی یونیورسٹیاں بنائیں؟ ۔شوکت خانم بھی میرے اور عوام کے پیسے سے بنا ہے، شوکت خانم کے نام پر بیوقوف بنانے والے اس کے بورڈ سے تنخواہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے سوچتے بعد میں ہیں اور بولتے پہلے ہیں، کبھی بسکٹ انقلاب آرہا ہے اور کبھی سموسہ انقلاب آتا ہے، اب نعرے سن سن کرلوگوں کے کان پک گئے ہیں۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings