Advertisement

پلوامہ حملہ جعلی نکلا،ان کو کرنے دو،ہم دیکھ لیں گے۔۔۔! بھارتی آرمی چیف کی ویڈیومنظر عام پر آگئی،بھارت کا بھانڈہ پھوٹ گیا، دنیابھرمیں شرمندگی کاسامنا

Advertisements

دنیابھرمیں شرمندگی کاسامنا، تفصیلات کے مطابق بھارتی صحافی ارون دھتی رائے نے پلوامہ میں جعلی حملے کا بھانڈہ پھوڑ دیا انہوں نے انکشاف کیا کہ پلوامہ حملہ ایک جعلی آپریشن تھا جس کے بارے میں بھارتی آرمی چیف پہلے سے جانتے تھے انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں بھارتی فوج کے سربراہ کا ایک کلب بھی زیر گردش ہے جس میں پلوامہ حملہ سے پہلے صحافی نے ان سے جب سوال کیا کہ کسی حملے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ”ان کو کرنے دو، ہم دیکھ لیں گے،اور پھر جب حملہ ہوا تو سب غائب ہوگئے، ارون دھتی رائے نے کشمیر کو پریشر ککر سے تشبیہ دیتے ہوئے

کہا کہ اب وہاں زیادہ سے زیادہ نوجوان مسلح جدوجہد میں شریک ہورہے ہیں جبکہ دوسری جانب بھارت میں ہندو قوم پرستی میں اضافہ ہورہاہے انہوں نے انکشاف کیا کہ کشمیر میں حقیقی کے ساتھ ساتھ جعلی اور درپردہ دہشت گرد گروپ بھی موجود ہیں اور ان کے مقاصد میں واضح فرق ہے،انہوں نے بھارتی فورسز کی تصاویر کو انتخابی مہم میں استعمال کرنے کو بھی انتہائی خوفناک عمل قراردیا

سعودی عرب کے وزیر توانائی انجینئر خالد الفالح نے پیر کے روز اس امر کی تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود کے قریب دو سعودی جہازوں کے خلاف تخریبی کارروائی کا ارتکاب کیا گیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے نے وزیر توانائی کے حوالے سے بتایا کہ 12 مئی بروز اتوار صبح چھے بجے دو سعودی تجارتی بحری جہازوں کو تخریبی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے وقت دونوں جہاز یو اے ای کی کمرشل بحری حدود میں فجیرہ کے قریب سے گذر رہے تھے۔ ایک کمرشل جہاز راس تنورہ بندرگاہ سے سعودی تیل لے کر امریکا جا رہا تھا جہاں اس تیل کو سعودی پیٹرولیم کمپنی آرامکو کے ایجنٹوں کو فراہم کیا جانا تھا۔حملے کا مقصد جہاز رانی کی سیکیورٹی اور تیل سپلائی کو نشانہ تھا۔انھوں نے بتایا کہ تخریبی حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی متاثرہ جہازوں سے تیل رسنے کی اطلاعات ہیں،

تاہم حملے میں جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔خالد الفالح نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد بحری نقل وحرکت اور دنیا بھر میں صارفین کو تیل کی محفوظ سپلائی کو گزند پہنچانا تھا۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بین الاقوموامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ بحری نقل وحرکت اور تیل لے جانے والے جہازوں کی حفاظت کے لئے اقدام اٹھائے کیونکہ اسے نقصان پہنچنے کی صورت میں توانائی مارکیٹ اور اس سے وابستہ اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings