Advertisement

پرانی سے پرانی اور خشک کھانسی ایسے ختم ہوگی جسیے تھی ہی نہیں

Advertisements

آکسیجن انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ مانی جاتی ہے ۔ جب ہمارے جسم میں آکسیجن کا آنٹیک کم ہوتاہے یا آکسیجن کی مطلوبہ مقدار پھیپھڑوں تک نہیںپہنچ پاتی تو رد عمل کے طور پر کھانسی ہونے لگتی ہے ۔ ہمارے یہاں عام طور پر سردیوں میں دروازے ، کھڑکیاں اور روشن دان وغیرہ بند کردیے جاتے ہیں ۔حیثیت لوگ کمرے میں انگیٹھی اور ہیٹر کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔ یوں ہمارے گھروں میں بالخصوص رات کے وقت آکسیجن کی موجودگی کم ہو جاتی ہے ۔ ایسے افراد جن کے پھیپھڑے مکمل طور پر اپنی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے تو انہیں آکسیجن انٹیک کم ہونے سے کھانسی بطور رد عمل ہونے لگتی ہے ۔ آج میں آپ کے لیے ایسا ٹوٹکا لے کر آیا ہوں جس کے استعمال کرنے سے پرانی سے پرانی اور خشک کھانسی ختم ہوجائے گی ۔ ‘

اس نسخے کو بنانے کےلیے آپ کو یہ چیزیں درکار ہوں گی ۔
شہد : آدھا کھانے کا چمچ
سونف : ایک چٹکی ‘
سفید زیرہ : ایک چٹکی
بڑی الائچی : چار سے پانچ دانے
پانی : ڈیڑھ کپ

ترکیب و طریقہ استعمال
کسی برتن میں ڈیڑھ کپ پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دیں اور اس میں سونف ، زیرہ اور الائچی ڈال دیں ۔ جب پانی ایک کپ رہ جائے تو اسے چولہے سے اتار کر کسی کپ میں ڈال لیں اور نیم گرم ہونے پر اس میں شہد ڈال کر مکس کرلیں اور پی لیں ۔ دن میں دو بار اس عمل دہرئیں ۔ پہلے ہی دن آپ کو آرام آجائے گا ۔

اگر آپ اس قہوے کی صرف ایک ہفتہ مسلسل استعمال کرلیں گے تو زندگی بھر بھی کھانسی نہیں ہو گی ۔ اس قہوے کے استعمال سے آپ کے جسم میں آکسیجن انٹیک لیول بہتر ہو کر آپ کی اس درینہ مسئلے سے جان چھوٹ جائے گی ۔

یاد رہے کھانسنا ، رونا اور ہنسنا ہمارے جسم میں آکسیجن کی وافر مقدار داخل کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ آپ سب سے پہلے تو ہو دار کمرے میں سونے کا اہتمام کریں ۔ اور کمرے میں ہیٹر یا انگیٹھی رکھنے سے بھی گریز کریں ۔ آپ دھویں ، گردوغبار ، تیز خوشبو اور بو سے بھی دور رہنے کو کوشش کیا کریں ۔

بادی ثقیل اور گیس پیدا کرنے والی غذاؤں سے پرہیز کریں ۔ پراٹھا ، سموسے ، پکوڑے ، نمکواور دیگر تلی ہوئی اشیاء کھانا بھی چھوڑ دیں ۔ تازہ آب و ہوا میں لمبی لمبی سانسیں لیا کریں اور سیر کو لازمی جایا کریں ۔ اس سے آپ کا نظام انہضام بھی درست رہے گا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings